’پائیریسی معیشت کے لیے نقصان دہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور اسمبلی کی رکن شبانہ اعظمی کا کہنا ہے کہ پائریسی یا نقالی ایک سماجی مسئلہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے بچوں میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی دلی میں نقالی کے خلاف ایک سیمینار میں انھوں نے کہا ’ہندی فلم اور میوزک انڈسٹری ہر سال نقالی کے سبب کروڑوں روپے کا نقصان اٹھاتی ہے۔‘ محترمہ اعظمی کا کہنا تھا ’میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں سب ہی ادیب اور فنکار ہیں اور فلموں، موسیقی اور کتابوں کی نقالی کا سیدھا اثر ہماری روزی روٹی پر پڑتا ہے۔‘ شبانہ اعظمی کا خیال ہے کہ ملک میں جس طرح ماحولیات، اور دیگر مسائل کے تئیں بیداری پیدا کی گئی ہے اسی طرح پائیرسی کے بارے میں بھی بیداری پیدا کرنی چاہیے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیس پائیریسی کے مسئلے سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے اس لیے ’حکومت کو پائیرسی سے نمٹنے کے لیے ایک خاص ٹاسک فورس بنانی چاہیے۔‘ انڈیا میں ایوان صنعت و تجارت یعنی ’فکی کے، ایک جائزے کے مطابق پائیرسی کے سبب ہر سال ملک کی معیشت کو ایک ارب بیس کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ اس میں کتابوں کی نقالی کے علاوہ ویڈیو گیمز، میوزک، فلم، سافٹ ویر اور کیبل پائیریسی بھی شامل ہیں۔ ملک میں سب سے زیادہ کمپیوٹر سافٹ وئیر کی نقالی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں دوائیاں بنانے کی بڑی انڈسٹری ہے جس میں دو سو پچاس بڑے یونٹ اور آٹھ ہزار چھوٹی انڈسٹریز شامل ہیں ۔ بھارتی بازار میں پندرہ سے بیس فی صد دوائیں نقلی ہوتی ہیں۔
انڈسٹریل پالیسی انڈین پروموشن کے سیکریٹری اجے دوا کا کہنا ہے ’ہمارے پاس پائیریسی سے لڑنے کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن ہمیں ریاستی حکومتیں، پولیس اور ائیر پورٹس کے اہلکاروں کی مدد کی ضرورت ہے۔ حکومت بیرونی ممالک کے ساتھ مل کر نقالی یا پائریسی پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘ انڈین میوزک انڈسٹری کے صدر وی جے لزارس کا کہنا ہے ’فلم اور میوزک کی نقالی پر قابو پانے کے لئے حکومت نے پوری مدد کی ہے لیکن اس پریشانی پر قابو پانے کے لیے فلم انڈسٹری کو مل کر کام کرنا ہوگا۔‘ ہندی فلم انڈسٹری کو فلموں کی نقالی کے سبب نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن انڈسٹری اس پریشانی سے نمٹنے کے لیے متحد نہیں۔ خود ہندی فلم انڈسٹری کے ہدایت کاروں کے درمیان پائریسی کے معاملے پر اختلافات ہیں۔ بعض نئےہدایت کاروں کا موقف ہے کہ ان کی فلموں کی نقالی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انکی فلمیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں حکومت اور اقتصادیات کے ماہر اس بات پر فکر مند ہیں کہ پائیریسی کے سبب ملک کی معیشت کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور جن فنکاروں اور ادیبوں کی کتابیں، فلمیں اور نغموں کی نقالی ہوری ہے انہیں معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں نقالی کے خلاف حکومت نے کوششیں تیز کی ہیں اور عوام میں بھی رفتہ رفتہ بیداری پیدا ہورہی ہے۔ | اسی بارے میں اگر سستے سافٹ وئیرز بند ہو جائیں تو۔۔۔26 April, 2006 | پاکستان ہیری پوٹر، غیر قانونی کاپیاں ضبط02 August, 2005 | فن فنکار پاکستان میں پائریسی کے کاروبار کامستقبل کیا ہے؟09 May, 2005 | Debate بالی ووڈ کا میڈ ان پاکستان 15 March, 2005 | فن فنکار غیرقانونی استعمال پر کارروائی26 January, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||