BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 09 May, 2005, 10:48 GMT 15:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں پائریسی کے کاروبار کامستقبل کیا ہے؟
News image
پاکستان میں آڈیو اور وڈیو پائریسی( یعنی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی نقل بنانے) کے کام میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔ پائریسی کی نگراں تنظیموں کے مطابق پاکستان کا نام پائریسی کرنے والے پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔

موسیقی کے عالمی ادارے نےدعویٰ کیاہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً بیس کروڑ تیس لاکھ جعلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنائی جاتی ہیں۔ ان میں سے صرف دو کروڈ پچاس لاکھ ملک میں خریدی جاتی ہیں۔دوسرے الفاظ میں جعلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کی ایک بہت بڑی تعداد بیرون ممالک برآمد کی جا رہی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اس سال جنوری میں لاگو ہونے والے ’ٹرپس‘ نامی ایک بین الاقوامی معاہدے سے پاکستان میں پائریسی کے کاروبار میں کمی ہوگی۔ پاکستان اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے اور اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا تواس پر تجارتی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ پائریسی سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟ کیا آپ اس حق میں ہیں کہ پائریسی ختم ہونی چاہیے؟ ٹرپس معاہدہ سے پاکستان میں اس کاروبار پر کیا اثر پڑے گا؟

آپ کی رائے

اب یہ بند ہو چکا ہے۔ آپ کی آراء سے ایک انتخاب یہاں دیا جاتا ہے۔


فواد کباڑیا، کراچی:
اگر پابندی لگ بھی جائے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں، ہم پاکستانی بھائی اس کا بھی کوئی علاج ڈھونڈ لیں گے۔

تلاوت بخِاری، اسلام آباد:
کیا پاکستان میں چور ہی چور بستے ہیں؟ کوئی بجلی چور، کوئی ٹیکس چور اور کوئی سی ڈی چور۔ ویسے کسی بھی غیر مرئی چیز کی چوری جرم نہیں کہلا سکتی۔ کم از کم اسلامی فقعہ کا یہی گیصلہ ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ:
مغربی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ ہر ملک کے لیے مخصوص کوڈ والی سی ڈیز بنائیں، اس سے شاید یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

سعیدہ رحمانی، امریکہ:
پاکستان میں کوئی قانون نہیں چل سکتا، جس کو جو جی چاہتا ہے کرتا ہے۔ بس ایک قانون ہے اور وہ ہے رشوت جو اسمبلی سمیت ہر جگہ چلتا ہے۔

نانا بھائی، کینیڈا:
اسے کوئی بھی نہیں روک سکتا تاہم سی ڈیز کو سستا کیا جا سکتا ہے تا کہ ہر کوئی قانونی طریقہ سے خرید سکے۔

عظیم عالم خان، لاہور:
ایسٹ اور ویسٹ۔۔پائریسی اِز بیسٹ

صدف خان، ٹورانٹو:
ترقی یافتہ ممالک کے لیے پائریسی غلط ہے جبکہ ترقی پزیر ممالک کے لیے ٹھیک ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ مہنگی اشیاء خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں لوگ نان پائریٹڈ سی ڈیز نہیں خرید سکتے، خاص طور ہم خواتین!! اس کاروبار کی بدولت کچھ لوگوں کو ملازمت بھی ملی ہوئی ہے۔

نوید نقوی، کراچی، پاکستان:
پاکستان میں اب تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ سی ڈی سستی ہوگئی ہے اور کیسٹ مہنگی۔لوگ آخر یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس قسم کے کام کر کے ہم اپنے ملک کا کیا امیج بنا رہے ہیں؟ لوگوں کی یہ سوچ کہ پائریسی سے ان کو فائدہ ہو رہا ہے بالکل غلط ہے۔ پائریسی سے صرف وہ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں جو اس کاروبار میں ملوث ہیں۔

اگر ایک سی ڈی قانونی طور پر بنائی جائے گی تو اس کا معیار بھی اچھا ہوگا اور سوفٹ ویئر بار بار کرپٹ نہیں ہوگا جیسا کہ آج کل کی سی ڈیز پر ڈاؤن لوڈ کیے ہوئے سوفٹ ویئر کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر یہی چلتا رہا تو پاکستان دس ملکوں میں پہلے نمبر پر آجائے گا۔

سیدطارق مسعود کاظمی، میانوالی، پاکستان:
بی بی سی، یا تو تم بہت بھولے ہو یا بہت چالاک۔ اگر یہ پابندی لگ جاتی ہے تو ہم غریب تو گئے۔ پھر کون تمہیں ای میل کرےگا۔ جب اپنی جیب میں ونڈوز 98 لانے کے ڈالر نہیں ہوں گے تو پھر خدا حافظ بی بی سی!

حبیب رانا، جاپان:
پیارے، اگر پاکستانی بھائی کاپی کر کے ،یا آپ کے الفاظ میں پائریسی کر کے، اپنے گھر والوں کوکھانا کھلا رہا ہے تو کیا برا ہے؟ اس سے بہتر نہیں کہ وہ خون یا چوری یا ڈکیتی کرے۔ یہ کوئی غلط کام نہیں۔ اگر حکومت کہتی ہے کہ یہ کام غلط ہے تو پہلے وہ ان بھائیوں کو روزگار دے اور اتنی تنخواہ دے کہ وہ آج کی مہنگائی میں گزارا کر سکیں۔ٹرپس جیسے قانون ہمارے ملکوں میں ہماری اپنی حکومتیں لاگو کرتی ہیں اور پروپیگنڈا یہ ہے کہ بیرونی دباؤ ہے۔ سب ڈرامہ ہے۔

معصومہ جان، راولپنڈی، پاکستان:
کچھ تو اللہ کا خوف کرو۔ پچیس روپ کی سی ڈی پائریٹڈ کیسے ہو سکتی ہے؟ اس کو مزید سستا ہونا چاہیے۔

عمران ابرو، شکارپور، پاکستان:
ویسے تو پائریسی ایک جرم ہے لیکن اگر پائریسی نہیں ہوگی تو ہر کوئی
سی ڈیز نہیں خرید سکے گا۔ رہی بات ٹرپس کی تواس پر عمل کی بات ذرا مشکل ہی لگتی ہے۔

علی عمران، لاہور، پاکستان:
طاقتور مارے بھی اور رونے بھی نہ دے۔اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

شیخ محمد یحٰی، کراچی، پاکستان:
کاپی رائٹس کا پاکستان میں کوئی قانون نہیں۔ سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز تو چھوٹی بات ہے، جب تک روز مرہ استعمال کی چیزیں سستی نہیں ہوں گی دو نمبر کام یوں ہی چلتا رہے گا۔

محمد عمران، لاہور، پاکستان:
اگر حکومت فلموں اور سوفٹ ویئر کی قیمتیں نیچے لے آئے تو پائریسی ختم ہو جائے گی۔

ڈاکٹر نصیر احمد طاہر، بدو ملہی، پاکستان:
چور مچائے شور۔

 اگر یہ نہ ہوتی تو ہم تو صرف خواب میں کمپیوٹر چلایا کرتے۔
شیخ یاسر، لاہور

شیخ یاسر، لاہور، پاکستان:
پائریسی میں بڑا مزا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی تو ہم تو صرف خواب میں کمپیوٹر چلایا کرتے۔

ابراہیم، سیالکوٹ، پاکستان:
یہ جرم ہے لیکن ہمیں دیکھنا چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی کو ترقی پزیر ممالک میں پھیلنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان ممالک میں لوگوں کی قوت خرید کم ہے۔ اس کام کو یوں ہی چلتے رہنا چاہیے۔

یاسین سید، جرمنی:
اگر متوسط طبقہ کے لوگ کپمیوٹر نہیں خرید سکیں گے تو پاکستان میں سوفٹ ویئر انڈسٹری تو جامد ہو جائے گی۔

منصور علی، ایبٹ آباد، پاکستان:
پائریسی بلا شبہ آڈیو، ویڈیو اور سوفٹ ویئر بنانے والوں کے لیے زہرقاتل ہے لیکن پاکستان کو دنیا میں پہلے دس ملکوں میں لانے والوں کو انٹرنیٹ پر ’پی ٹو پی‘ کی شکل میں پائریسی کا سب سے بڑا ذخیرہ کیا دکھائی نہیں دیتا؟

عارف ماہی، پاکستان:
پاکستان میں پائریسی کا کاروبار بہت مضبوط ہے اور اسے ختم کرنا نہایت مشکل ہے۔

خلیل آرائیں، ڈگری، پاکستان:
آپ نے دیکھا پتلیوں کا یہ ناچ؟ امریکی انتظامیہ کے ایک معمولی اہلکار نے کیا کہہ دیا، پاکستان کی حکومت چوکیدار بننے چل پڑی۔ علم کوئی ایسا خزانہ نہیں ہے کہ جسے چھپا کر رکھا جا سکے بلکہ اسے آگے بڑھانا چاہیے۔یہ تو ان حکیموں والی بات ہوئی جو کسی دوسرے کو علم نہیں دیتے اور اپنے ساتھ قبرمیں لے جاتے ہیں۔

حماد ملک، لاہور، پاکستان:
جب تک یہ لوگ پاکستان جیسے ملکوں کے لیے سوفٹ ویئڑ کی قیمتیں کم نہیں کرتے، پائریسی کا کاروبار ختم نہیں ہو سکتا۔پچاس ڈالر ماہانہ تنخواہ لینے والا شخص ایک آدھ ڈالرسے زیادہ کی سی ڈی کیسے خرید سکتا ہے؟ اگر پائریسی ختم بھی ہو جاتی ہے تب بھی سی ڈیز کی قیمت اس سے زیادہ نہیں رکھی جا سکتی۔ اس کے علاوہ اور کوئی حل ہے نہیں۔

ہارون خان، مِلبری، امریکہ:
دو غلط مل کر صحیح نہیں ہو جاتے۔پائریسی کو اس وجہ سے جائز نہیں قرار دیا جا سکتا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں لوگ پوری قیمت پر سی ڈیز وغیرہ خرید نہیں سکتے۔ان ملکوں کے پاس وسائل اور اہلیت موجود ہے کہ وہ اپنے ہاں سپر مارکیٹ بنائیں۔ان ملکوں کو چاہیے کہ کم قیمت پر سوفٹ ویئر وغیرہ مہیا کرنے کے لیے کچھ کریں۔ پائریسی سے نقصان کسے ہوتا ہے؟ بے چارے گلوکاروں، موسیقاروں وغیرہ کو ہی نقصان ہوتا ہے۔

رضا احمد، دبئی:
ٹیکنالوجی کے حصول پر کوئی پابندی نہیں ہونا چاہیے، وہ نیوکلیر ہو یا کوئی دوسری ٹیکنالوجی۔ لیکن اس کے ناجائز استعمال کو روکنا چاہیے۔ناجائز استعمال کا مطلب کیا ہے؟ اس سوال کا جواب مشکل ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے ٹھیکیدار اپنے علاوہ ہر دوسرے کے استعمال کو ناجائز کہتے ہیں، چاہے وہ ہیروشیما ہو، ناگاساکی ہو یا پھر افغانستان، ایران،عراق یا پاکستان!

جواد، جاپان:
لالچ بری بلا ہے اور یہ کام کرنے والے کچھ زیادہ ہی لالچی ہو گئے تھے۔ ہمارے لوگوں کی تو عادت ہے کہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو ہی کاٹ دیتے ہیں۔ میں نہیں مانتا کہ پاکستان میں عام آدمی کا اصلی سی ڈی خریدنا ناممکن ہے۔ اگر یہ کام صرف ان غریبوں کی حد تک ہو تو ٹھیک ہے لیکن کچھ لالچی لوگوں نے تو اسے دھندا بنا لیا ہے، دنیا بھر میں جعلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز برآمد کرنے کا۔ یہاں تک نوبت لانے والے یہی دو نمبر کاروباری ہیں۔ نئے قانون سے ان لوگوں پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا، مرے گا تو بے چارہ غریب۔

شہریارخان، سنگاپور:
بغیر اجازت کے کمپیوٹر سوفٹ ویئر اور ملٹی میڈیا کو کاپی کرنا اور پھر بیچنا کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنے سے کم نہیں۔پائریسی کی اجازت صرف ایسے موقعوں پر ہونی چاہیے جس سے تعلیم کا فروغ ہو اور لوگوں کی بھلائی ہو۔دنیا کو پائریسی، دہشت گردی، غیر قانونی طور پر پیسے بھجوانے، فحش مواد کی خرید وفروخت اور اس قسم کے دوسرے انسانیت دشمن جرائم سے نجات دلانے کے لیے عالمی سطح پر ایک ادارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کے تمام ملکوں کو اجتماعی طور پر ان برائیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مشکل نہ ہو۔

علی ساجد رضوی، لاس انجیلیس،امریکہ:
یہاں امریکہ میں جتنا نقلی کام ہوتا ہے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا اور یہ لوگ کاپی رائٹس کی بات کرتے ہیں۔انٹرنیٹ سے آپ جو میوزک یا فلم چاہیں ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں بس آپ کو معلوم ہونا چاہیے کرنا کیسے ہے۔دنیا کے سب سے بڑے چور تو یہاں امریکہ میں بسے ہوئے ہیں۔

قیصر، بیجنگ، چین:
پاکستان میں لوگ کبھی بھی لائسنس والے سوفٹ ویئر نہیں خرید سکتے کیونکہ سوفٹ ویئر کمپیوٹر سے بھی زیادہ مہنگے ہیں۔کمپنیوں کو تیسری دنیا میں اپنے سوفٹ ویئر کی قیمت کم رکھنی چاہیے کیونکہ اب براڈ بینڈ کی وجہ سے پوری دنیا میں پائریسی بڑھ رہی ہے۔

نبیل عامر، کیلیفورنیا، امریکہ:
پائریسی سے یقیناً غریب ملکوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اگر پاکستان میں ونڈوز اپنی اصلی قیمت میں بکنا شروع ہو جائے تو اس کے استعمال میں کمی آئے گی۔پاکستان میں ویسے تو بہت سے قوانین ہیں جن پر عمل نہیں ہوتا لیکن یہ کیونکہ تجارتی پابندی کا مسئلہ ہے اس لیے شاید اس پر عمل ہو جائے۔لیکن اس سے لاکھوں لوگ جو کمپیوٹر کی تعلیم اور اس کے استعمال سے پیٹ بھرتے ہیں وہ بے روزگار ہو جائیں گے۔

ملک زین، سپین:
میں ایک ایسے ملک میں رہتا ہوں جہاں کہنے کو تو پائریسی جیسی کوئی چیز نہیں لیکن میں نے کبھی بھی پاکستان سے سی ڈیز نہیں منگوائیں کیونکہ یہاں بھی ڈھونڈنے پر پائریٹڈ سی ڈیز مل جاتی ہیں۔ یہ لوگ پہلے اپنے ملکوں کو تو پائریسی سے پاک کر لیں پھر پاکستان کا رخ کریں۔

علیم اختر، گجرات، پاکستان:
کیوں ہم غریبوں سے کمپیوٹر استعمال کرنے کا حق بھی چھیننا چاہتے ہو؟ پاکستان میں دوسری ضروریات زندگی تو ہماری پہنچ سے باہر ہو ہی رہی ہیں، اب ٹی وی، کمپیوٹر اور موبائیل پر ہی گزارہ کرنے دو۔

عمران، امریکہ:
اینٹلیکچول پراپرٹی رائٹس کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ملک پہلے دوسرے ملکوں کی سرحدوں کا احترام کرنا تو سیکھیں۔ مسلمہ تاریخی ڈاکو اقوام کو کم ازکم یہ نعرہ زیب نہیں دیا (کہ وہ پراپرٹی رائٹس کی بات کریں)۔مغرب اپنے علم پر سانپ بن کر بیٹھنا چاہتا ہے لیکن اب یہ ’جن‘ بوتل میں واپس نہیں ڈالا جا سکتا۔

انٹرنیٹ اور کمپیوٹر اب معلومات اور علم کو ’مفتے‘ میں گلوبلائز کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔اگلے چند سالوں میں پائریسی کے لیے سی ڈی کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ پائریسی کا فائدہ عام آدمی کو پہنچ رہا ہے۔ ایک بہت اچھی دنیا میں پائریسی نہیں ہونا چاہیے لیکن ایسا ہوگا نہیں۔

اظہر سہیل، ٹورانٹو،کینیڈا:
کاپی رائٹ زیادہ بڑا جرم ہے یا انسانیت کا خون؟اقوام متحدہ کو کاپی رائٹ اور اس قسم کے چھوٹے جرائم تو نظر آتے ہیں لیکن دوسری طرف خون کی ہولی دیکھ کر بھی آنکھیں بند ہیں۔

News image
گذشتہ سالوں میں انڈیامیں انٹرنیٹ کے استعمال میں زبردست اضافہ ہوا ہے

عفاف اظہر، ٹورانٹو، کینیڈا:
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تمام معاہدے تیسری دنیا کے لیے کیوں ہوتے ہیں جو بےچارے پہلے ہی زندہ رہنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں چاہے جعلی طریقوں سے ہی سہی۔ آج تک کوئی معاہدہ ترقی یافتہ ملکوں کے لیے کیوں نہیں بنا؟ اور اگر بنا بھی ہے تو وہ عمل کریں نہ کریں انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ یہ کیا ڈھونگ ہے؟

عثمان اکرم، لاہور، پاکستان:
میں دعوٰی سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں آئی ٹی کی جتنی بھی ترقی ہوئی ہے وہ پائریسی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ہم تسیری دنیا کے لوگ کبھی بھی اوریجنل یا اصلی سی ڈیز نہیں خرید سکتے۔ میں ایک سرور سافٹ ویئر ہاؤس میں کام کرتا ہوں۔ پچھلے ہی ہفتے مجھے میرے مینیجر نے ایک سافٹ ویئر لائسنس کی قیمت پتا کرنے کو کہا۔ جب قیمی پتا کی تو میرے تو حوش اُڑ گئے کیونکہ صرف ایک سرور کی قیمت بیس ہزار ڈالر تک تھی۔اس کے علاوہ اس سرور کی کلائنٹ ایکسس یا خریدار کی دسترس کی فیس بھی تھی۔سوچیں اگر ہم اپنی گاہکوں کے کھاتے میں لائسنس فیس بھی ڈالیں تو کون بے وقوف ہمارا سافٹ ویئر خریدے گا؟ یعنی ایک لاکھ کا سافٹ ویئر اور ایک لاکھ بیس ہزار کا سرور، پائریسی زندہ باد!

ایمن سہیل، کینیڈا:
کچھ لوگ جو مرضی کر لیں، باوضو ہی رہتے ہیں اور کچھ بے چارے جتنے بھی مجبور ہوں ان کی ہر مجبوری گناہ بن جاتی ہے۔

جبران خلیل، لاہور:
تو کیا ہوا؟ سی ڈیز ہی بیچتے ہیں، ان کی طرح انسانیت کا سودا تو نہیں کرتے۔ پہلے وہ اپنےلیے تو کوئی معاہدہ کریں پھر دوسروں کی بات کریں۔

کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا:
یہ سب ڈرامہ ہے۔ خود انسانیت کا خون بھی پی لیں تو معاف اور دوسرے پانی بھی پئیں تو گناہ۔ہاں جی اپنا راج ہے جو چاہیں کریں۔

News image
پشاور کے کمپیوٹر بازار کا ایک منظر

شاہدہ اکرم، عرب امارات:
تیسری دنیا کا رکن ہونا کتنا اذیت ناک ہے، کوئی تیسری دنیا کے لوگوں سے پوچھے۔پھر کہتے ہیں کہ جس کے پاس روٹی نہیں وہ کیک کھا کر گزارہ کیوں نہیں کر لیتا۔بندہ یہ پوچھے کہ وہ جو یہ کاروبار کر رہے ہیں وہ کس مجبوری سے کر رہے ہیں۔ گناہ ثواب کا سبق بھی صرف غریب کے لیے رہ گیا ہے۔اچھا کر رہے ہیں جو بھی کر رہے ہیں۔خود بم چلا کہ بھی خود کو دوشت گردی کے مخالف کہتے ہیں۔

66اسرائیلی فلم ساز
امن کی کوششیں اور اسرائیلی سیاست
66آپ کی رائے
پاکستان میں بڑھتے ہوئےجرائم
66آپ کی رائے
کرکٹ ڈِپلومیسی کتنی کامیاب رہے گی؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد