نٹھاری: الزامات پیش کر دیےگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی کے نواحی شہر نوئیڈا میں بیس سے زائد بچوں اور عورتوں کے قتل کے معاملے کی تفتیش کرنے والے ادارے ’سی بی آئی‘ نے اہم ملزمان منندر سنگھ پنڈھیر اور سرنندر کولی کے خلاف الزامات پیش کر دیے ہیں۔ سی بی آئی نے نوئیڈا معاملے میں معطل سب انسپکٹر سمرجیت کور کے خلاف بھی الزامات پیش کیے ہیں۔ سی بی آئی نے ملزم سرنند کولی کے خلاف پائل عرف دیپیکا کے اغواء ، جنسی استحصال اور قتل کے معاملے میں جب کہ منندر سنگھ پندھیر پر اپنےگھر میں جسم فروشی کا کاروبار کرنے، جنسی استحصال کے لیے اپنے گھر کا استعمال کرنے اور اغوا اور قتل کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ سی بی آئی نے نوائیڈہ معاملے میں اتر پردیش کی معطل شدہ سب انسپکٹر سمرجیت کور کے خلاف منندر سنگھ پندھیر کے ساتھ مل کر قتل کی سازش، رشوت لینے اور منندر سنگھ پندھیر اور ان کے نوکر سرنندر کولی کے خلاف ثبوت مٹانے کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔ اترپردیش کی حکومت کے احکامات پر ہی سی بی آئی نے پائل عرف دپیکا کے قتل کی تفتیش شروع کی تھی۔ سی بی آئی کے مطابق اس نے نوئیڈا معاملے میں اب تک کل انیس مقدمات درج کیے ہیں جن میں سے اٹھارہ اغوا، ریپ اور قتل کے ہیں۔ سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ارون کمار نے دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے متعدد نفسیاتی معائنوں اور طویل تحقیقات کے بعد یہ پتہ چلا کہ سرنندر کولی ایک’نفسیاتی مریض‘ ہے اور وہ ’نیکروفیلیا‘ اور ’نیکروفیزیا‘ میں مبتلا ہے۔
سی بی آئی کے مطابق تفتیش کے دوران سرنندر کولی نے انہیں یہ بتایا کہ وہ نہ صرف اغواء اور قتل میں ملوث تھا بلکہ وہ قتل کے بعد بچوں اور عورتوں کے بعض اعضاء بھی کھاتا تھا۔ تاہم سی بی آئی کا کہنا ہے کہ منندر سنگھ پندھیر کو کسی نفسیاتی الجھن یا بیماری کا شکار نہیں پایا گیا۔ سی بی آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نوئیڈا کیس میں بچوں اور عورتوں کے قتل کے معاملے میں ’اعضاء کی تجارت‘ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ گزشتہ برس انتیس دسمبر کو نوئیڈا میں منندر پندھیر نامی ایک تاجر کے گھر کے سامنے واقع نالے سے پولیس نے سترہ انسانی ہڈیاں اور ڈھانچے برآمد کیے تھے اور اس کے بعد وقتاً فوقتاً منندر سنگھ پندھیر کےگھر کے عقب میں واقع نالے سے مزید انسانی ہڈیاں اور ڈھانچے برآمد کیے گئے تھے۔ نٹھاری کے باشندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ان کے علاقے سے تقریباً چالیس بچے اور عورتیں لاپتہ ہو چکے ہیں اور علاقے کے لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نےگمشدگیوں سے متعلق رپورٹ درج کرنے اور ان افراد کی تلاش میں کوتاہی برتی ہے۔ اس حوالے سے اتر پردیش پولیس پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ اس نے ابتدائی پندرہ دنوں کی تفتیش میں ملزم کو تلاش کرنے کے بجائے اس نے اصل ثبوت کو مٹانے کی کوشش کی تھی۔ | اسی بارے میں نوئیڈا کیس: معطل سب انسپکٹرگرفتار21 March, 2007 | انڈیا نٹھاری کیس: منتقلی کی اپیل خارج07 March, 2007 | انڈیا نوئیڈا کیس: کوہلی کااقبالی بیان01 March, 2007 | انڈیا نوئیڈا کیس: تبادلے، معطلی03 February, 2007 | انڈیا نوئیڈا کیس: حکام، پولیس پر نکتہ چینی17 January, 2007 | انڈیا نوئیڈا معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے16 January, 2007 | انڈیا ڈھانچوں سے بھرے40 تھیلے برآمد 15 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||