BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشتبہ فرد ہریانہ پولیس کے حوالے

سلیم احمد کا چہرہ ہریانہ پولیس کے جاری کردہ خاکوں سے ملتا ہوا پایا گیا تھا
سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں ریاست راجستھان سے حراست میں لیے گئے مشتبہ شخص کو مزید پوچھ گچھ کے لیے ہریانہ کی پولیس پانی پت لے گئی ہے۔

بیکانیر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس اشوک راٹھور نے سلمان احمد کو مزید پوچھ گچھ کے لیے ہریانہ پولیس کے حوالے کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

راجستھان پولیس نے بدھ کو سلمان احمد نامی شخص کو ریاست کے سرحدی علاقہ بیکانیر سے حراست میں لیا تھا۔

بیکانیر کی پولیس نے سلمان احمد کا چہرہ ان خاکوں سے ملتا ہوا پایا تھا جنہیں ہریانہ پولیس نے دھماکوں کے بعد عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر جاری کیے تھے۔

ریاست کے داخلہ سکریٹری گلاب چند کٹاریہ نے بتایا ’ سلیم بار بار اپنے بیانات بدل رلا ہے اور ابھی اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔‘پولیس اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ اگر سلمان احمد ممبئی کے رہنے والے ہیں تو وہ بیکانیر کس لیے آئے تھے۔

پولیس نے سلمان احمد کے ساتھ مزید دو افراد کو بھی حراست ميں لیا تھا جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ پولیس کے مطابق وہ تاج محمد نامی ایک ریلوے اہلکار کے سلسلے میں تفتیش کر رہی تھی جو ان خاتون کے شوہر ہیں جنہیں پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

راجستھان پولیس نے بم دھماکوں کی تفتیش میں ہریانہ پولیس کی مدد مانگی تھی کیوں کہ سمجھوتہ ٹرین دھماکوں کی تفتیش ہریانہ پولیس کر رہی ہے اور راجستھان پولیس کی تفتیش کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ہریانہ پولیس کی ایک ٹیم جمعرات کو بیکانیر پہنچی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد