سرکاری ائر لائنز ضم ہورہی ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ہوا بازی کے محکمے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہوا بازي میں بڑھتی ہوئی نجکاری کا مقابلہ کرنے کے لیے دو سرکاری ائرلائنز ضم ہو رہی ہیں۔ شہری ہوا بازی کے وزیر پرفل پٹیل کا کہنا ہے کہ ائر انڈیا اور انڈین ائرلائنز کے ضم ہونے کے بعد دونوں ائرلائنز کے ملازمین کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ اہلکاروں کے مطابق ضم ہونے کے بعد دونوں ائرلائنز نجی ائرلائنز کا بہتر مقابلہ کر سکیں گی اور سالانہ پانچ ارب روپے کا کاروبار کریں گی۔ پرفل پٹیل کے مطابق دونوں ائرلائنز کے ضم ہونے میں تین ماہ کا وقت لگے گا۔ حکومت کو امید ہے وجود میں آنے والی ائرلائن دنیا کی تیس بڑی ائرلائنز میں سے ایک ہوگی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ائرانڈیا اور انڈین ائرلائنز کے پاس مجموعی طور پر ایک سو بائیس ہوائی جہاز اور چونتیس ہزار سے زائد ملازم ہیں جن میں ایک ہزار تین سو پندرہ پائلٹ شامل ہیں۔ ائرانڈیا 1932 میں شروع ہوئی تھی اور دینا بھر میں چالیس سے زیادہ مقامات پر اپنی خدمات مہیا کرتی ہے جبکہ انڈین ائرلائنز 1953 میں شروع ہوئی تھی اور اس کی زیادہ توجہ ملک کے اندر رہی ہے۔ انڈین ائر لائنز کے مطابق اس کی کل آمدنی ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر ہے۔ ہندوستان میں ہوائی جہاز سے سفر کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ لوگوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے۔ مسافروں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کئی نجی کمپنیاں منظر عام پر آ گئی ہیں جس کے سبب ائر انڈیا اور انڈین ائرلائنز جیسی کمپنیوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں بنگلور ائرشو، 500 کمپنیوں کی شرکت07 February, 2007 | انڈیا سستی ائرلائینز کی بڑھتی مقبولیت 31 August, 2006 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا ریل سےجائیں،جہاز سےنہیں: ریل بجٹ24 February, 2006 | انڈیا ائیرانڈیا 68 نئے جہاز خریدےگا 16 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||