سستی ائرلائینز کی بڑھتی مقبولیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک وقت تھا جب ہوائي جہاز کا سفرصرف امیروں تک محدود تھا۔اور عام لوگ جہازوں کو دور سے دیکھ کر ان میں بیٹھنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ لیکن وقت بدلا تو ہوائی جہاز کا سفر ٹرینون کے ٹکٹوں سے بھی کم قیمت میں ممکن ہو گیا ہے۔ باقی دنیا میں تو سستے ٹکٹوں والی ائر لائینز کا انقلاب بہت پہلے آ چکا تھا لیکن ہندوستان میں ان کا آغاز ابھی نیا ہے۔ تقریبا دو برس قبل ملک میں سستی پروازوں کا آغاز ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس برس جون تک فضائی سفر کے بازارميں انہوں نے ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ اورآئندہ چند مہینوں ميں سستی پروازوں کی فہرست مزید لمبی ہونے جا رہی ہے۔ سستي پروازوں کا آغاز کرنے والی ائر ڈکن کمپنی کے مینیجنگ ڈائرکٹر کیپٹن گوپیناتھ اس رجحان کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم نے جس چیز کا آغاز کیا تھا اس سے ملک میں ایوی ایشن یا فضائی سفر کے شعبے میں انقلاب آ گيا اور اب ہرطبقے کے لوگ ہوائی جہاز کا سفر کر سکتے ہیں۔‘ آئندہ مہینوں میں ائر ون، چینئی پریمیئرائر، ایسٹ اینڈ ویسٹ، انڈیگو اور جیکسن ائر لائینز جیسی کمپنیاں سستی ائر لائینز کی فہرست میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں۔ جیکسن ائر لائینز کے چیف ایگزیکٹو اتم کمار بتاتے ہیں کہ ائر لائینز کو سب سے زیادہ منافع کارپوریٹ طبقے اور فریکونٹ ٹریولر یعنی زیادہ سفر کرنے والوں سے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الوقت یہ دونوں قسم کے لوگ سستی ائر لائینز میں سفر نہیں کر رہے ہیں اس لیئے ’ انہی لوگوں کی ضروریات کو ذہن میں رکھ کر جیکسن ائر لائینز کے جہازوں کے اگلے حصے میں کارپوریٹز اور فریکونٹ ٹریولرز کے لیئے سہولیات فراہم کی جائیں گي۔‘ ملک میں جیٹ، سہارا، انڈین ائر لائینز اور کنگ فشر جیسی ائر لائینز کا شمار مہنگی پروازوں میں ہوتا ہے۔ ان کمپنیوں کے خیال میں عوام کی خرچ کرنے کی قوت میں اضافے کے سبب ان کی ائرلائینز ہمیشہ پسند کی جائیں گی۔
کنگ فشر ائر لائینز کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ہتیش پٹیل کا کہنا ہے کہ ’ہمارا مقصد صارفین کو بہتر سہولیتیں فراہم کرنا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ جو پیسے خرچ کر رہے ہيں وہ ان کا پورا فائدہ اٹھائیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ہندوستان تبدیل ہو رہا ہے لوگ بہتر سہولیات کے لئے پیسے خرچ کرنے کے لیئے تیار ہوتے جا رہے ہیں اور ملک میں ہونے والی ’مارکیٹ ریسرچ‘ سے بھی یہی بات سامنے آئی ہے۔ تجزیہ نگار دیوساگر سنگھ کے مطابق ہندوستان میں ہوائی ٹریفک میں ہر برس تیس فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں شہری ہوابازی کی صنعت میں ایک ریکارڈ ہے۔ ان کے مطابق اب غیر ملکی ائر لائینز ہندوستان میں پیسہ لگانےمیں دلچسپی لے رہی ہیں۔ مسٹر سنگھ شہری ہوابازی کا ایک بہترین مستقبل دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہوائی جہاز کا سفر مزید سستا ہو جائے گا اور ائرلائینز کی سروسز بھی بہتر ہو جائيں گی۔‘ ہندوستان میں جس طرح فضائی ٹریفک کے شعبے میں ملکی اور غیر ملکی نجی کمپنیاں دلچسپی دکھا رہی ہیں اس سے یہ واضح ہے کہ اس سے نہ صرف ہوا بازی کی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ عام لوگوں کے لیۓ ہوائی جہاز میں سفر کرنا ایک خواب نہیں رہے گا۔ |
اسی بارے میں چین اور انڈیا کی ترقی: مقابلہ آسان نہیں23 July, 2006 | انڈیا انڈیا: اقتصادی ترقی کے نئے تقاضے 27 February, 2006 | انڈیا بھارت میں شہروں کی ترقی کا اعلان03 December, 2005 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا بھارت کا دیہی ترقی کا پروگرام15 November, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||