برجیش اپادھیائے بی بی سی ہندی سروِس |  |
 | | | پڑوسی ممالک میں بھارت مخالف جذبات نمایاں طور پر پائے جاتے ہیں |
دنیا میں بھارت کو ایک کامیاب جمہوریت اور اقتصادی طور پر ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر تصور کیا جارہا ہے۔ لیکن بھارت کے پڑوسی ممالک میں لوگوں سے اگر آپ اس کے بارے میں پوچھیں تو آپ کو جو جواب ملیں گے وہ پریشان کن ہوں گے۔ معاشرتی طور پر بھارت اور اس کے پڑوسی ممالک مختلف نہیں ہیں۔ کوئی پاکستانی، بنگلہ دیشی، نیپالی یا سری لنکن کسی بھارتی شہری سے مختلف نہیں ہے۔ ان کی غذا بھی یکساں ہے، موسیقی بھی ایک ہی سنتے ہیں، فلمیں بھی ایک جیسی ہی دیکھتے ہیں۔ ان کے مذہبی مقامات بھی مشترک ہیں۔ اکتوبر 2005 کے زلزلے میں بھارتی امداد کو کئی پاکستانیوں نے دوستانہ قدم سمجھا لیکن کئی لوگوں نے اسے کشمیر کے بارے میں انٹیلیجنس یکجا کرنے کی ایک کوشش بھی مانا۔ بعض لوگوں کی نظر میں بھارت گزشتہ سال نیپال کے سیاسی بحران کا حل کرنے کی اہلیت رکھتا تھا، لیکن کچھ لوگوں نے یہ بھی سمجھا کہ بھارت نیپال میں عوام کی رائے کے خلاف مداخلت کررہا تھا۔ بھارت نے بنگلہ دیش کے وجود میں اہم کردار ادا کیا لیکن آج بنگلہ دیشی بھارت کو گیس نہیں فروخت کرنا چاہتے۔ انیس سو اسی کے عشرے میں بھارتی فوج سری لنکا میں امن قائم کرنے کی کوشش میں ملوث ہوگئی اور بھارت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ بی بی سی ہندی سروس ’رائزنگ انڈیا‘ کے موضوع کے تحت بھارتی ٹیلی ویژن چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ساتھ ایک علاقائی مباحثہ کرارہا ہے۔ اس خصوصی مباحثے کا موضوع ہوگا: بھارت – دوست یا دشمن۔ اس ٹی وی پروگرام میں سفارتکار، سیاستدان، آرٹِسٹ، تاجر اور طالب علم سیٹلائٹ وڈیو کے ذریعے اسلام آباد، ڈھاکہ، کٹھمنڈو اور کولمبو سے شرکت کریں گے۔ اس مباحثے کے پینل میں سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا اور ٹیلی کام گروپ بھارتی انٹرپرائزیز کے وائس چیئرمین راکیش مِتُل شرکت کریں گے۔ پہلے یہ پروگرام گیارہ فروری کو بی بی سی ہندی سروس کے ریڈیو پروگرام پر نشر کیا جائے گا۔ اسے سترہ اور اٹھارہ فروری کو ٹیلی ویژن پر دیکھا جاسکے گا۔ آپ اس مباحثے میں شرکت کرنے کے لیے آٹھ فروری تک اپنے سوالات یا خیالات بی بی سی کو بھیج سکتے ہیں۔
|