BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی ٹی کی ترقی سے انڈیا کا فائدہ

آئی ٹی سیکٹر
سروس سیکٹر سے بھارت کی معیشت کو کافی ترقی ملی ہے
عالمی پیمانے پر انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب نے ہندوستان کی شبیہ کو بدل دیا ہے۔ کثیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے سبب بھارت میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے اور صارفین سے وابسطہ بازار کو بھی زبردست فروغ ملا ہے۔

تیرہ سالہ ٹیلر کیلیفورنیا کے شہر موڈیسٹو میں رہتی ہیں۔ وہ اپنے ’ہوم ورک ‘ کے لیے اپنے والدین سے مدد لینے کے بجائے انٹر نیٹ پر جاتی ہیں اور ہندوستان کے ہائی ٹیک شہر بنگلور میں واقع آئی ٹی ٹورنگ سروس ’ٹیٹور ویسٹا‘ سے انگریزی اور حساب کے مضامین میں مدد لیتی ہیں۔

ٹیلر کی ماں ڈینسی روبینسن کا کہنا ہے: ’میری بیٹی اپنے درجے میں ہرایک سے آگے ہے جبکہ وہ پہلے ایسا کبھی نہیں کر پائی تھی۔‘

محترمہ ڈینسی ایک گھنٹے کے لیے ہندوستانی ’ آئی ٹیٹوریل‘ سروس کو ڈھائی ڈالر یعنی تقریبا سوا سو روپیے فیس دیتی ہیں جبکہ امریکہ میں ایک گھنٹے کے ’ آئی ٹیٹوریل‘ کے لیے چالیس ڈالر فیس ہے اور براہ راست ٹیوشن کے لیے سو ڈالر دینا پڑتا ہے۔

ڈینسی کی سٹوری انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب کی ایک چھوٹی مثال ہے کہ کس طرح دنیا کی معیشت شان سے بڑھ رہی ہے۔

ماضی میں سرحدوں سے صرف سامان ہی درآمد اور برآمد کیا جا سکتا تھااور زیادہ تر’سروسز‘ کی درآمدگی ممکن نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مقامی لوگوں کو بین الاقوامی چیلنجوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔

لیکن انٹر نیٹ کی آمد سے حالات بدلنے لگے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اب سب سے بڑا بازار ’سروسز‘ کا ہے۔

بھارت میں آئی ٹی سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس میں نوجوانوں کے لیے بہت مواقع ہیں

نجی چھوٹی کمپنیاں ہی نہیں بلکہ آج کل بڑی کمپنیاں بھی دوسرے ممالک سے کم خرچے پر بین الاقوامی معیار کی سروسز حاصل کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کو لگتا ہے کہ اکاؤنٹنگ اور آئی ٹی سپورٹ جیسے شعبوں میں آؤٹ سورسنگ یعنی اپنے ملک کے بجائے باہر کے ملک سے کام کروانا زیادہ سستا ہے۔

ہندوستان کو بی پی او یعنی بزنس پروسسنگ آٹ سورسنگ کا عالمی رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ وہ بی پی او کے ذریعہ پچیس ارب ڈالر کی مالیت برآمد کرتا ہے جو 2010 تک ساٹھ ارب ڈالر تک ہوجانے کی امید ہے۔

آئی ٹی سروسیز کا مرکز بننے کی ہندوستان کے پاس کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک میں بڑی تعداد تعلیم یافتہ کام کرنے والے نوجوان موجود ہیں۔ بیس لاکھ افراد ہرسال کالج سے گریجویٹ کی ڈگڑی حاصل کرکے فارغ ہوتے ہیں جن کے لیے انگریزی زبان بولنا کوئي مشکل کام نہیں ہے۔

ان کے بہترین بین الاقوامی کمپنیوں سے روابط ہیں اور ملک کے بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی اچھی سہولیات بھی موجود ہیں۔

ہندوستان میں آئی ٹی پروفیشنل کی تنخواہ امریکہ اور یوروپ کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ تاہم اس ملک میں آئی ٹی سروسز میں انقلاب اس وقت آیا جب حکومت نے 1990 میں گلوبلائزیشن کے تقاضے کا خیال کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنا دیا۔

حکومت نے ملک کی ترقی کے لیےخصوصی طور پر مراعات دیکر آئی ٹی سروسز سیکٹر کی برآمدات پر خاص توجہ دی جس کی وجہ سے کم مزدری دینے اور انگریزی بولنے والے افراد سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کا سیلاب سا آگیا۔

لیکن ابتدائی دنوں میں ملک کے قوانین کے سبب آئی ٹی کمپنیوں کو کافی پریشانیاں بھی اٹھانی پڑیں۔گزشتہ ایک عشرے کے اندر حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی کے سبب رکاوٹیں ختم ہوگئی ہیں اور اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پانچ سو سے زیادہ بڑی کثیر ملکی کمپنیاں صرف بنگلور میں موجود ہیں جس میں ہیولیٹ، ڈیل، آئی بی ایم اور اکسنچر جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔

گزشتہ دسمبر میں سسکونے تقریبا پچاس ارب روپے کے سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے چھ ہزار ملازمتیں ملنے کی امید ہے۔ سسکو سسٹم کے چیف ویم ایلفرنک کا کہنا ہے کہ ہندوستان انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دنیا کا محور بننے جارہا ہے۔

اسی بارے میں
انٹرنیٹ سب کے لئے
02 November, 2003 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد