کاویری:پانی کی تقسیم پر فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی بھارت میں دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کے تنازعے پر17 برس قبل بنائےگئےٹرائبیونل نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ریاست تمل ناڈو کو ہر سال دریائے کاویری سے 419 ملین کیوبک فٹ پانی ملے گا۔ جبکہ کرناٹک کو 270 ملین کیوبک فٹ پانی ملے گا کرناٹک کے مطابق اس کی ضرورت اس سے دوگنا زیادہ ہے۔ یہ تنازعہ سو سال سے زیادہ پرانا ہے۔کرناٹک نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کیرالہ کو اس دریا سے 30 ملین جبکہ پانڈیچری کو 7 ملین کیوبک فٹ پانی دیا جائے گا۔ بنگلور میں حفاظتی دستوں کواس فیصلے کے آنے سے پہلے ہی ہائی الرٹ پر رکھا گیا تھا۔تاکہ 1991 میں دریائے کاویری سے متعلق فیصلے کے نتیجے میں ہونے والے فسادات دہرائے نہ جائیں۔ کرناٹک اور تمل ناڈو دونوں ہی ریاستوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں خطے میں لاکھوں کسانوں کے لیے پانی کی ضرورت ہے۔ ہندوستان کا آئین دریائے کاویری کو’ بین الریاستی‘ دریا قرار دیتا ہے۔ یہ دریا کرناٹک سے شروع ہوتا ہے اور تمل ناڈو سے ہوکر کیرالہ اور پانڈیچری سے بھی گزرتا ہے۔ اس کے پانی پر جھگڑے کی شروعات انیسویں صدی میں مدراس پریزیڈینسی (جو اس وقت تمل ناڈو ہے) اور صوبہ میسور (جو اب کرناٹک ہے) کے درمیان برطانوی دور حکومت کے دوران ہوئی تھی۔ پیر کو یہ فیصلہ آنے سے قبل بنگلور پولیس نے کم از کم 700 احتیاطی گرفتاریاں کی تھیں۔اور امن و امان کو یقینی بنائے رکھنے کے لیے 16 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ دریائے کاویری سے متعلق واٹر ٹرائبیونل دونوں ریاستوں کے درمیان کئی دور کے مذاکرات نا کام ہونے کے بعد 1990 میں تشکیل کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں بنگلور: سخت ترین حفاظتی انتظامات04 February, 2007 | انڈیا بنگلور: کشیدگی، دفعہ 144 نافذ21 January, 2007 | انڈیا پاکستانی بچے کا آپریشن بنگلور میں30 July, 2004 | انڈیا ٹیپو کی تلوار وطن واپس آ گئی07 April, 2004 | انڈیا الیکشن میں اداکاروں کی حمایت04 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||