بنگلور: کشیدگی، دفعہ 144 نافذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے جنوبی شہر بنگلور میں حکام کا کہنا ہے کہ دو گرپوں کے درمیان تشدد آمیز کارروائیوں کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور اضافی پولیس تعینات کر دی گئي ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تنازعے کی شروعات اتوار کے روز سخت گیر ہندو تنظیم راشڑیہ سیوم سیوک سنگھ کی ایک عوامی ریلی کے دوران ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق ریلی کے مقام پر جانے والے’ آر ایس ایس‘ کے کارکنوں نے دکانوں اور ٹریفک پر حملہ کیا۔ آر ایس ایس کے کارکنوں کے ان حملوں میں کم از کم تین بسیں نذرِ آتش کر دی گئیں۔ تشدد سے شہر کا مسلم اکثریتی علاقہ شیو جی نگر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں تشدد کی وجہ سے تجارتی کاروبار اور دکانیں بند ہیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے بعض علاقوں میں احتیاطاً دفعہ 144 بھی نافذ کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ بنگلور میں ہی گزشتہ جمعہ کو صدام حسین کی پھانسی کے خلاف ایک ریلی کے دوران دو گرپوں میں تنازعے کے سبب کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس ریلی میں بیس ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے حصہ لیا تھا۔ | اسی بارے میں صدام: بنگلور میں مظاہرہ، کئی زخمی20 January, 2007 | انڈیا بنگلور: کشمیری شدت پسند گرفتار05 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||