ٹیپو کی تلوار وطن واپس آ گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارویں صدی کے ہندوستان کے قومی ہیرو ٹیپو سلطان کی تلوار دو سو برس بعد واپس وطن لوٹ آئی ہے۔ یہ تلوار انگیز جاتے ہوئے ساتھ لے گئے تھے۔ میسور کا شیر کہلانے والے بھارتی ہیرو ٹیپو سلطان کی یہ قیمتی تلوار گزشتہ برس مشروبات کے بڑے بھارتی کاروباری وجے مالیا نے لندن میں ایک نیلام کے دوران خرید لی تھی۔ لیکن انہوں نے اس کی ملکیت کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ اب اس تلوار کے مالک وجے مالیا کا کہنا ہے کہ وہ اس تلوار کو ہر قیمت پر اس کے مالک کی سر زمین پر واپس لانا چاہتے تھے۔ وجے مالیا کے مطابق اس تلوار کی ملکیت کا حق بھارت کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ خطاطی کی مہارت سے تیار کی گئی ایک دھار والی اس تلوار سے اٹھارویں صدی میں ہندوستان آئے انگریز خاصے خوفزدہ رہتے تھے۔ 1799 میں سرنگا پٹم میں ٹیپو سلطان کی شکست اور موت کے بعد ان کی قیمتی تلوار ضبط کر لی گئی تھی۔ اس تلوار کا نیلام ٹیپو سلطان کو جنگ کے میدان میں پچھاڑنے والے سکاٹ لینڈ کے جنرل ڈیوڈ بیئرڈ کے خاندان نے کیا تھا۔ ٹیپو سلطان جنوبی ہندوستان میں برطانوی قبصے کے سخت مخالف تھے اور اٹھارویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے بڑا خطرہ بھی تھے۔ ٹیپو سلطان ہی تھے جن کی زبردست مزاحمت کے باعث انگریزوں کو میسور پر تسلط قائم کرنے میں چالیس برس لگے تھے۔ وجے مالیا جو اس برس کے عام انتخابات میں بھی پارلیمانی امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں کے مطابق اس وقت ٹیپوسلطان کی تلوار کا بھارت واپس واپس لاناان کے انتخابی مفادات کا حصہ نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||