سکول میں ’سوریہ نمسکار‘ پر تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مدھیہ پردیش حکومت کی طرف سے جاری ایک فرمان کے تحت شروع ہونے والے ’سوریہ نمسکار‘ پروگرام کے خلاف ریاست میں شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ یہ پرگرام صوبے کے تمام سرکاری اداروں میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی مخالفت کرنے کے ساتھ کچھ لوگوں نے اپنے بچے کو سکول نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمیعت العمائے ہند کے جنرل سیکریڑی سید محمود مدنی نے کہا کہ ’ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے جہاں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ مگر کسی ایک مذہب کے اوپر وہ چیز لازم نہیں کی جاسکتی جو اس مذہب کے بنیادی عقیدے کے خلاف ہے‘۔ بدھ کو جبل پوری کی ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک عبوری حکم میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کسی بھی طالب علم کو ایسا کرنے کے ليے مجبور نہيں کر سکتی۔ لیکن اس سے قبل مدھیہ پردیش کی حکومت نے شعبہ تعلیم میں بابا رام دیو کے پروگرام کے تحت ’سوریہ نمسکار‘ پروگرام شروع کرنے کی بات کہی تھی جو پچیس جنوری سے تمام سرکاری اسکولوں میں شروع کیا جائے گا۔ اس حکم کی تعمیل کے لیے باقاعدہ تمام اضلاع کہ کلیکٹروں کو ہدایت دی گي ہے کہ جن سکول اور کالجوں میں ’سوریہ نمسکار‘ کا اہتمام نہیں کیا جاتا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اس سلسلےمیں مختلف تنظمیوں کے عہدیدران، علماء اور سیاسی دانشورں نے ایک میمورنڈم صوبے کے گورنر ڈاکڑ بلرام جاکھڑ کو دے کر یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ’سوريہ نمسکار‘ ورزشی عمل ہے اور ہندو مذہب سے جڑا ہوا ہےجس میں منتروں اور اشلوکوں کے ساتھ سورج کے آگے سر جھکانے کے لیے کہا گیا ہے۔ ’سوريہ نمسکار‘ کی مخالفت میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم دانشوروں نے بھی اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔ مدھیہ پردیش کے مشہور صحافی اور سماجی کارکن لجا شنکر ہردینیا اوربابو سالومن نے اس عمل کو لازمی قرار دیے جانے کو افسوس ناک قرار دیا۔ انہوں نے خود گورنر بلرام جھاکھڑ سے ملاقات کرکے اس عمل کو روکنے کی درخواست کی۔ اسی طرح بھوپال کے عیسائی فرقے کے رہنما آرچ بشپ پاسکل ٹوپنوں نے بھی اعتراض کیا ہے اور کہا کہ حکومت کو اس طرح کے کام تعلیمی اداروں میں نہیں کرنا چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی حکومت اسے لازمی قرار نہیں دے سکتی ہے۔ ’سوریہ نمسکار‘ ایک یوگا ورزش ہے۔ بابارام دیو اس کے ماہر ہیں اور ان کے مشورہ سے حکومت مدھیہ پردیش نے اس کا باقاعدہ اہتمام کیا۔ پچیس جنوری کو یہ پروگرام شہر کے ٹی ٹی نگر علاقے میں ہوگا جس میں خود بابارام دیو آنے والے تھے لیکن عین وقت پر ان کا پروگرام ملتوی ہوگیا۔ اس پروگرام میں طلبا کہ ساتھ ساتھ اساتذہ بھی شرکت کر یں گے۔ سوریہ نمسکار اور یوگا کے فروغ کے لیے مدھیہ پردیش پوری طرح مستعد ہے اور وہ اس کے لیے ایک ہزار ایکڑ زمین بھی دینے کےلیے تیار ہے۔ ریاستی حکومت نے سوریہ نمسکار کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جس پر اگلے تعلیمی سال سے عمل ہوگا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مدھیہ پردیش، کے کنوینر مولانا شمس الدین آفریدی کی زیرصدارت اہل حدیث، جماعت اسلامی اور مجلس علوم کے عہدیدران کے ساتھ شہر کے قاضیان مفتیان و سیاسی و سماجی کارکنوں نے بھی سوریہ نمسکار کی مخالفت کی ہے۔ علماء نے تعزیرات ہند کی دفعہ 26 اور دفعہ 27 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کثیر المذہبی ملک ہے اور یہاں ہر شخص کو مذہبی آزادی ہے۔ مسلم خواتین اور بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ یہ عمل صحت کے اعتبار سے بہتر ہو سکتا ہے مگر اسکول و کالجوں میں اسے لازمی قرار دینے سے بڑی دقت یہ ہوگی کہ ’سوریہ نمسکار‘ کرنے پر عقیدہ اسلام مجروح ہوگا اور اس سے سکول میں نہ کرنے پر استاد اور طلباء دوحصوں میں بٹ جائیں گے۔ | اسی بارے میں وندے ماترے نہیں گائیں گے: مسلمان06 September, 2006 | انڈیا علماء کی چاندی اور بالی وڈ کی کامیابی 03 September, 2006 | انڈیا انڈیا: ’وندے ماترم‘ کی تاريخ02 September, 2006 | انڈیا وندے ماترم پر دھماچوکڑی09 September, 2006 | انڈیا ’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘30 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||