فلاحی کام کرتا ہوں جیل مت بھیجیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ اداکار سنجے دت نے خصوصی عدالت سے کہا ہے کہ ان کے جیل جانے سے ان کے فلاحی کاموں میں خلل پڑے گا۔ عدالت نے سنجے دت کو1993 انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا مجرم قرار دے چکی ہیں اور عدالت اب ان کی سزا کا تعین کرنے والی ہے۔ سنجے دت نے سزا کی معافی کی جو اپیل کی ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ سماج کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں. وہ کینسر کے مریضوں کی مدد کر رہے ہیں۔ سنجے دت نے اپنی اپیل کے ساتھ شہر کے چار باعزت افراد کےحلفیہ بیان بھی شامل کیے ہیں جس میں انہوں نے سنجے کے کردار کی تعریف کی ہے۔ ان میں اداکار دلیپ کمار اور ڈاکٹر یوسف مرچنٹ ہیں جو منشیات کے عادی افراد کی لت چھڑانے کا کام کرتے ہیں اور وہ سنجے کے ڈاکٹر رہ چکے ہیں۔اس کے علاوہ سابق شیریف ممبئی نانا چڈاسما اور سیو دی چلڈرن نامی غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ وپلا قادری نے بھی حلیفہ بیان میں سنجے کے کردار کی تعریف کی ہے۔
خصوصی عدالت اپیل پر سماعت فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔عدالت نے تیکنیکی بنیادوں پرمجرم سنجےدت کو بھی چھ فروری تک عدالت کے سامنے خود سپردگی سےمہلت دے دی ہے۔ انیس سو اٹھاون کےاس قانون کی رو سے کوئی بھی مجرم جسے عدالت نے زیادہ سے زیادہ دس سال کی سزا دی ہو اور اس نے اس سے پہلے کوئی جرم نہ کیا ہو عدالت سے سزا کی معافی کے مطالبہ کا حق رکھتا ہے۔ اس کے لیے جواز یہ دیا جاتا ہے کہ انجانے میں یہ گناہ ہو گیا ہے اور مجرم کو اصلاح کا ایک موقع دیا جانا چاہئیے نہ کہ اسے خطرناک مجرموں کے درمیان بھیج دیا جائے۔ سنجےدت کی اس اپیل کےخلاف عدالت میں کسی گمنام شخص نے مخالفت میں اپیل داخل کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مجرم سنجے دت کو کسی بھی طرح سزا سے معافی نہیں دی جانی چاہیئے کیونکہ ان کے پاس پہلے سے اسلحہ لائسنس تھے۔ ان کے پاس ان کی حفاظت کے لیے اسلحہ موجود تھا اس کے باوجود انہوں نےجن سے حفاظت کے نام پر اے کے 56 رائفل لی تھی وہ خطرناک لوگ تھے۔ عدالت نے اس گمنام اپیل کو یہ کہہ کر خارج کر دیا کہ اگر وہ اس طرح کی اپیل کو قبول کر لیتے ہیں تو پھر اپیلوں کا انبار لگ جائے گا۔ سنجے دت کی جانب سے آج سپریم کورٹ کے نامور وکیل وی آر منوہر نے جرح کی. وہ سزا سے معافی کے قانون پر بحث کر رہے تھے اس پر انہوں نے کہا کہ عدالت مجرم کے اس وقت کے حالات ، جرم کی نوعیت اور مجرم کے اچھے کردار کو مدنظر رکھے۔ سنجے دت کی اس اپیل کے خلاف سی بی آئی کے وکیل اجول نکم کی دلیل تھی کہ سنجے دت نے ہوش و حواس میں ایسے لوگوں سے اسلحہ لیا جو خطرناک تھے. اس لئے وہ سزا کی معافی کی مخالفت کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں سنجے دت کیس کا فیصلہ آج؟27 November, 2006 | انڈیا سنجے دت کو مجرم قرار دے دیا گیا28 November, 2006 | انڈیا سنجےدت کی پیشی28 November, 2006 | انڈیا سنجے: ضمانت میں دو دن کی توسیع19 December, 2006 | انڈیا سنجے دت کی ضمانت میں توسیع21 December, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||