دکن ڈائری: نماز عید اور مسلم وزیرکا استعفیٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چنتن بیھٹک: کانگریس کی پریشانی آندھرا پردیش کی برسر اقتدار کانگریس پارٹی کی ’چنتن بیٹھک‘ یا موجودہ صورتحال پر غورو خوص کے لیے ہونے والا اجلاس یوں تو بڑی دھوم دھام کے ساتھ ہوا لیکن لگتا ہے کہ مسائل جوں کے توں برقرار رہے- عام طور پر امید کی جارہی تھی کہ اس اجلاس میں مختلف مسائل پر پارٹی کے اندرونی اختلافات دور ہوں گے اور خاص طور پر تلنگانہ جیسے سلگتے ہوئے مسئلہ پر پارٹی کوئی قابل قبول فارمولہ باہر لائے گی لیکن ایسا تو کچھ نہیں ہوا البتہ اختلافات اور بھی نمایاں ہوکر سامنے آگئے ہیں- تلنگانہ پر مرکزی قیادت کی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکرٹری ڈگ وجے سنگھ نے کہا کہ ریاستوں کے تنظیم جدید کے دوسرے کمیشن کی تشکیل ہی اس مسئلہ کو حل کرسکتی ہے- لیکن پارٹی کے کئی دوسرے قائدین نے کھل کر اس سے اختلاف کیا۔ ہنمنت راؤ نے وارننگ دی کہ اگر یہ مسئلہ جلد حل نہیں کیا گیا تو تلنگانہ میں پارٹی کا صفایا ہوجائے گا- ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چنتن بیٹھک نے کانگریس کی قیادت کی پریشانیاں اور بڑھادی ہیں- آندھراپردیش کے مدرسوں کو امریکی امداد آندھراپردیش حکومت نے امریکی امداد سے ایک ایسا پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد دینی مدرسوں میں فنی تعلیم اور روزگار فراہم کرنے والے تربیتی پروگرام شروع کرنا ہے۔ اس پروگرام میں ریاستی حکومت کا محکمہ تعلیم اور غیر سرکاری تنظیم کیاپ فاونڈیشن شامل ہیں۔ اس پروگرام کے تحت 1200 مدرسوں کو امداد فراہم کی جائے گی۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد فریدالدین کا کہنا ہے کہ اس سے مسلمان طلباء میں تعلیم کی شرح اور ہنر مندی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
یوں تو ریاستوں اور مرکز میں وزراء کا استعٰفی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن بعض اوقات اس کی جو وجوہات بتائی جاتی ہیں وہ بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔ اس ہفتہ کرناٹک کے وزیر اوقاف و حج امور ضمیر احمد نے اس لئے کابینہ سے استعفی دے دیا کہ وزیر اعلی ایچ ڈی کمارا سوامی نے مسلمانوں کے ساتھ عیدالاضحٰی کی نماز ادا نہیں کی۔ ضمیر احمد کا کہنا تھا ان کی دعوت قبول نہ کرکے اور نماز میں شرکت نہ کرکے انہوں نے تمام مسلمانوں کی توہین کی ہے کیونکہ انہوں نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ ضرور عیدگاہ آئیں گے۔ ریاست کے سیاسی حلقوں میں یہ خیال کیا جارہا ہے کہ عید کی نماز ادا نہ کرنا محض ایک بہانہ ہے دراصل ضمیر احمد کابینہ سے علیحدگی کے لئے موقع کی تلاش میں تھے کیونکہ بی جے پی سے جنتادل ایس کے تعلقات اور حکومت میں بی جے پی کی شرکت کے باعث ضمیر احمد پر مسلمانوں کا دباو بڑھتا جارہا تھا کہ وہ حکومت چھوڑدیں- براڈ بینڈ کا خواب خطرے میں
|
اسی بارے میں دکن ڈائری 09 December, 2006 | انڈیا آندھرا: ایڈز سےمتاثرہ دوسری بڑی ریاست02 December, 2006 | انڈیا انڈیا:ضمنی انتخاب جیتنےکی دوڑ25 November, 2006 | انڈیا وقف کردہ زمینوں پر بڑے پراجیکٹ18 November, 2006 | انڈیا دکن ڈائری: بادشاہ گر خطرات میں11 November, 2006 | انڈیا لسانی ریاستوں کے 50 برس، لیکن تلخیاں برقرار04 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||