دکن ڈائری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تلنگانہ تحریک میں شدت کیا ریاست آندھراپردیش جلد ہی تقسیم ہوجائے گی اور علیحدہ ریاست تلنگانہ کا خواب پورا ہوجائےگا ؟ آندھراپردیش میں آج کل یہی مسئلہ بحث کا موضوع ہے۔ لوک سبھا حلقہ کریم نگر میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے صدر کے چندر شیکھرراؤ کی جیت سے علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے مطالبہ میں ایک نئی شدت پیداہوئی ہے۔ ٹی آر ایس کا مطالبہ ہے کہ علاقہ تلنگانہ کو باقی ریاست سے الگ کرکے ایک علیحدہ ریاست کا درجہ دیا جائے۔ مسٹر راؤ کا کہنا ہے کہ وہ 2009ء کے انتخابات میں کم سے کم 100 اسمبلی نشستیں جیتنے کی کوشش کریں گے تاکہ اگلی ریاستی حکومت ٹی آر ایس کی تائید کے بغیر بن نہ سکے۔ کریم نگر کے اس نتیجہ سے حکمراں کانگریس پارٹی کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ وہ تلنگانہ کے مطالبہ کو سرد خانے میں ڈالے رکھنے کی کوشش کررہی تھی۔ جذباتی اورشعلہ بیان لیڈر سیماب صفت 53 سالہ چندر شیکھر راؤ ایک بڑی دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ایک اچھے مقرر ہیں جنہیں تیلگو، انگریزی، اردو اور ہندی میں بولنے پر ملکہ حاصل ہے-لیکن ان کی یہ زبان دانی اکثر ان کے لیے سنگین مسائل اور تنازعات پیدا کرتی رہی ہے۔ وہ اپنے جوش میں کہیں بھی کچھ بھی کہہ جاتے ہیں۔ جب وہ کانگریس کے دوست تھے تو انہوں نے سونیاگاندھی کو ایک ایسی دیوی کہا تھا جس کے پیر چھوکر وہ ریاست تلنگانہ حاصل کرلیں- لیکن جب وہ ناراض ہوئے تو انہوں نے اسی سونیا گاندھی کو بازار میں کھینچنے کی دھمکی دے ڈالی۔ کریم نگر سے دوبارہ انتخاب پر چندر شیکھر اس قدر جوش میں آگئے کہ انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’اگر میں اپنی چمڑی (جلد) سے تلنگانہ کے عوام کےلیے جوتیاں بھی بنادوں تو وہ کم ہوگا اور اگر میں آپ کے پیر دھوکر وہ پانی اپنے سر پر ڈال لوں تب بھی میں آپ کا احسان نہیں چکاسکوں گا۔، کرناٹک میں حکمراں محاذ کو دھچکا پڑوسی ریاست کرناٹک میں سابق نائب وزیر اعلی سدا رامیا نے ریاستی اسمبلی کا ضمنی الیکشن جیت کر حکمران جنتادل ایس اور بی جے پی اتحاد کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے۔ سدا رامیا نے جو پہلے دیوے گوڑا کی پارٹی جنتادل ایس میں تھے کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے 257 ووٹوں کی اکثریت سے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی اس لیے اہم ہے کہ جے ڈی ایس اور بی جے پی کی حکومت نے سدا رامیا کو ہرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا اور وزیر اعلی کمارا سوامی نے ان کے خلاف مہم چلائی تھی۔
بی جے پی مسلسل زوال کا شکار آندھراپردیش میں ضمنی انتخابات کے نتائج سے یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں مسلسل زوال کا شکار ہے۔ کریم نگر میں جس پر 1998 اور 1999 ء میں بی جے پی نے قبضہ کیا تھا اب کی بار اس کے امیدوار اور سابق مرکزی وزیر سی ایچ ودیا ساگر راؤ کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ بی جے پی کو ایک فیصد سے بھی کم ووٹ ملے- اسی طرح بوبلی لوک سبھا حلقہ کے ضمنی الیکشن میں بھی بی جے پی کو شرمناک شکست ہوئی ہے اور اس کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہوگئی- بوبلی میں کانگریس اور تلگودیشم کے درمیان اتنا سخت مقابلہ ہوا کہ جیتنے والی کانگریس کی امیدوار جھانسی رانی اور شکست خوردہ تلگودیشم امیدوار اپلا نائیڈو کے درمیان صرف 157 ووٹوں کا فرق تھا- تلگودیشم کاا لزام ہے کہ ووٹوں کی گنتی میں دھاندلیوں کے ذریعہ کانگریس پارٹی نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ | اسی بارے میں دکن ڈائری: بادشاہ گر خطرات میں11 November, 2006 | انڈیا وقف کردہ زمینوں پر بڑے پراجیکٹ18 November, 2006 | انڈیا آندھرا: ایڈز سےمتاثرہ دوسری بڑی ریاست02 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||