BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 December, 2006, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریچھ کی ہلاکت پر تحقیقاتی کمیشن

ریچھ
’جب جنگلی جانور بستیوں کا رُخ کرتے ہیں توآگ کا الاؤ تیار کیا جاتا ہے‘
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی قصبے ترال میں خوفزدہ باشندوں کے ہاتھوں نایاب کالے ریچھ کی ہلاکت کے واقعے نے قانونی تنازعہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔

جنگلی حیات کے محکمہ کی طرف سے باشندوں کے خلاف پولیس میں شکایت کے بعد چار افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی اور ان گرفتاریوں پر عوامی احتجاج کے بعد حکومت نے واردات کے محرکات کا پتہ لگانے کے لئے تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا ہے۔

اس دوران علاقے کے لوگوں نے بھی عدلیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک مقامی باشندے غلام محمد ڈار نے عدالت جانے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ،’میڈیا نے ہماری بات سُنے بغیر یکطرفہ مہم شروع کر دی اور محکمہ طیش میں آ کر انتقام پراُتر آیا‘۔

غلام ڈار کا کہنا ہے کہ جب جنگلی جانور بستیوں کا رُخ کرتے ہیں تو باشندے صدیوں پرانی روایت کے مطابق آگ کا الاؤ تیار کرتے ہیں اور اس دن بھی ایسا ہی کیا گیا۔ ڈار کا دعویٰ ہے کہ بھالو پندرہ افراد کو زخمی کرنے کے بعد بدمست تھا اور وہ لوگوں پر جھپٹنے کے لیے آگ میں کود پڑا۔ انہوں نے کہا کہ’ آپ کسی بھی ماہر سے پوچھیئے کہ جب ذرا سی آگ بھالو کو چھو جائے تو وہ نہیں بچتا ہے‘۔

ٹی وی پر مسلسل دکھائے جانے کی وجہ سے اس معاملے کا انسانی پہلو پس منظر میں چلا گیا اور پورے ملک میں شور مچ گیا کہ کشمیریوں نے بھالو کو مار دیا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ترال کے ایک مقامی فوٹو گرافر نے شعلوں میں لپٹے بھالو کو ویڈیو کیمرے میں قید کر لیا اور اسے محکمہ وائلڈ لائف کو بیچنا چاہا اور جب فلم وہاں نہیں بکی تو اس نے ٹیپ سہارا ٹی وی کو بیچ دیا، اور شور مچ گیا
ایس پی سردار خان

جنگلات و ماحولیات کے ریاستی وزیر قاضی محمد افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ایک اعلٰی افسر کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا ہے جو دس دن میں اپنی رپورٹ دے گا۔

اونتی پورہ تحصیل کے ایس پی سردار خان کا ماننا ہے کہ ٹی وی پر مسلسل دکھائے جانے کی وجہ سے اس معاملے کا انسانی پہلو پس منظر میں چلا گیا اور پورے ملک میں شور مچ گیا کہ کشمیریوں نے بھالو کو مار دیا۔ مسٹر سردار خان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ترال کے ایک مقامی فوٹو گرافر نے شعلوں میں لپٹے بھالو کو ویڈیو کیمرے میں قید کر لیا اور اسے محکمہ وائلڈ لائف کو بیچنا چاہا اور’جب فلم وہاں نہیں بکی تو اس نے ٹیپ سہارا ٹی وی کو بیچ دیا، اور شور مچ گیا‘۔ سردار خان کے مطابق تحقیقات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتیں جب تک وہ لوگ ہسپتال سے رخصت نہ ہوجائیں جن کو بھالو نے زخمی کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے جان بوجھ کر بھالو کو زندہ جلایا ہوگا تو وہ قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا اور اس میں میڈیا مہم کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی۔

تحفظ ماحولیات کے لیے سرگرم انجمن ’ہوپ‘ کے صدر ثاقب قادری نے اس بارے میں رائے دیتے ہوئے بتایا کہ کشمیر میں ہزاروں میل پر جنگلات پھیلے ہوئے ہیں اور محکمۂ جنگلی حیات ابھی تک جنگلوں سے ملحقہ بستیوں کی ’ڈیمارکیشن‘ نہیں کر پایا ہے۔ درندوں کے بستیوں کی طرف رخ کرنے کے پیچھے کئی محرکات گنواتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ’جنگلوں میں یا ان کے قریب انسانی سرگرمی نہایت نقصان دہ ہوتی ہے۔ پہاڑیوں پر فوجی کیمپ اور جنگلوں میں مسلح جنگجوؤں کی نقل و حرکت سے جانور پریشان ہوکر پر سکون ماحول کی تلاش میں بھٹکتے ہیں۔ اور اس دوران بستیوں کا رخ بھی کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں محکمہ نے کیا حکمت عملی اپنائی؟‘۔

 اگر کسی نے جان بوجھ کر بھالو کو زندہ جلایا ہوگا تو وہ قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا اور اس میں میڈیا مہم کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی۔

گو کہ مذکورہ ویڈیو ٹیپ میں لوگوں کو بھالو پر حملہ آور ہوتے دکھایا گیا ہے، تاہم یہ سوال موضوع بحث بن رہا ہے کہ آیا عدالت ویڈیو فلم کو ہی حتمی ثبوت تصور کرے گی۔

ماہر قانون دان ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کیس میں براہ راست مشاہدہ نہیں بلکہ پس منظر زیادہ اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’جو جانور قانون کے تحت محفوظ ہیں ان کو مارنا تو واضح طور پر جرم ہے، جس کی سزا مقرر ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ لوگوں نے شوقیہ طور یا کسی مادی لالچ میں آکر بھالو کو مارا یا پھر انسانی زندگیوں کے دفاع میں؟‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد