انڈیا: جانورں کے حقوق کی لڑائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے چڑیا گھر سینکڑوں شیروں، چیتوں، بھالوؤں اور ٹائیگرز کا مسکن ہیں لیکن ان میں سے بیشتر جانور تن تنہا ہیں۔ ان کے جوڑے فراہم نہ کیۓ جانے کے سبب بیشتر جانور مجرد زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور جنگلات اور ماحولیات کی وزارت سمیت چڑیا گھر کے حکام سے وضاحت طلب کی ہے کہ آخر جانوروں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں برتا جا رہا ہے۔ جانوروں کے لیئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم پیٹا یعنی ’پیوپل فار ایتھکل ٹریرٹمنٹ آف اینملز‘نے ملک کے کئی چڑیا گھروں کے جائزے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انتظامیہ کی لا پرواہی کے سبب بہت سے جانور تنہا زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ انکی جنسی زندگی بہتر کرنے کے لیے تنظیم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے اور عدالت نے متعلقہ محکموں سے جواب طلب کیا ہے۔ تنظیم کے وکیل اجۓ پنجوانی کہتے ہیں کہ عام طور چڑیا گھروں میں جانوروں کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے۔’زو کے قوانین کے مطابق کسی بھی جانور کو ایک برس سے زیادہ اس کے ساتھی سے الگ نہیں رکھا جائے گا لیکن بڑی تعداد میں برسوں سے جانور وں کو تنہا رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے ایک تو اسکی جنسی زندگی کا سوال ہے اور دوسرے وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیئے ساتھی کا ہونا ضروری ہے۔، مسٹر پنجوانی نے بتایا کہ قانون کے مطابق جانوروں کو انکے سماجی گروپ میں رکھنا اور انہیں انکا ساتھی مہیا کرنا ضروری ہے۔
تنظیم کی سربراہ انورادھا سہانی کا کہنا ہے کہ چڑیا گھروں کے متعلق کئی طرح کے قوانین ہیں لیکن جانوروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔’پنجرے بہت چھوٹے ہیں، انہیں پینے کا صاف پانی اور پورا کھانہ نہیں ملتا ہے۔ اصول کے مطابق جانوروں کی فطری زندگی کو بڑھاوا ملنا چاہیے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہےاور چڑیا گھر کے ملازمین پوری طرح غیر تربیت یافتہ ہیں۔‘ انورادھا نے بتایا کہ تنظیم نے سب سے پہلے ممبئی کے چڑیا گھر کے متعلق ممبئی ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا تھا لیکن جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ملک تقریباً سب ھی چڑیا گھروں کی حالت ایک جیسی ہے اس لیئے سپریم کورٹ میں آنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔ مسٹر پنجوانی کے مطابق حکومت چڑیا گھروں کی دیکھ بھال کے لیئے کروڑوں روپیۓ خرچ کرتی ہے لیکن اس سے کوئی مقصد حل نہیں ہوتا ہے۔ ’چڑیا گھر میں جانوروں کو ایسے رکھنے کا حکم ہے کہ انہیں کبھی بھی جنگل میں دوبار چھوڑا جا سکے لیکن زیادہ تر جانور دکھاوے کے لیئے ہیں اورجنگل میں انہیں دوبارہ نہیں چھوڑا جاسکتا۔‘ چڑیا گھر کے حکام بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نظام میں بعض خامیاں ہیں اور کچھ چڑیا گھروں میں کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن افسران نے سپریم کورٹ کے نوٹس کے متعلق کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔ تنظیم پیٹا کا کہنا ہے کہ نہتا جانوروں کے جوڑے تلاش کرنے کے لیئے انہیں پیسےملتے ہیں لیکن اس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ جانورں کو کھانا ملتا ہے لیکن بھاگتے پھرنے کا موقع نہیں ملتا اس لیئے قبض اور ٹی بی جیسے امراض میں مبتلا ہیں اور پنجرے میں تنہا بند رہنے والے بہت سے جانور تو پاگل ہوگئے ہیں۔ پیٹا کا کہنا ہے کہ ممبئی کے چڑیا گھر میں اصلاحات کے سبب حالات بہتر ہوئے ہیں اور اسے امید ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد ملک کے دیگر چڑیا گھروں میں بھی حالات اچھے ہوجائیں گے۔ | اسی بارے میں بغداد چڑیا گھر کے لیے امدادی خوراک21.04.2003 | صفحۂ اول کلکتہ: جنرل کلائیو کے کچھوے کی موت23 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||