93 دھماکے، مزید تین مجرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے بم دھماکوں کی دہشتگردی کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے جمعہ کے روز مزید تین ملزموں کو قصوروار قرار دیا۔ جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے ملزم نمبر 57 شیخ علی شیخ عمر، ملزم نمبر 100پرویز ذوالفقار قریشی اور ملزم نمبر 135 شاہد نظام الدین قریشی کو مجرم قرار دیا۔ عدالت نے بتایا کہ شیخ علی پر ممبئی بم دھماکوں کی سازش میں شریک رہنے، اسلحہ اور دھماکہ خیز اشیاء شیکھاڑی ساحل سمندرپر اتارنے اورگاڑیوں میں آر ڈی ایکس بھرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔ البتہ عدالت نے مجرم کو سندھیری اور بورگھاٹ میں تربیت لینے کے الزام سے بری کر دیا۔ سی بی آئی نے ذوالفقار قریشی پر جو الزامات عائد کیے تھے عدالت نے بتایا کہ وہ جرم ان پر ثابت ہوئے ہیں۔ قریشی پر بم دھماکوں کی سازش، لینڈنگ میں مدد دینے، پاکستان جا کر تربیت لینے اور گاڑیوں میں آر ڈی ایکس بھرنے کا مجرم قرار دیا۔ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑیاں شہر میں بارہ مقامات پر کھڑی کی گئی تھیں اور پھر ان میں دھماکے کیے گئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بارہ ستمبر سے بم دھماکے مقدمات کا فیصلہ سنایا جا رہا ہے اور اب تک عدالت نے 44 ملزمان کی قسمت کا فیصلہ سنا چکی ہے جس میں سے اکتیس کو سزا ہو چکی ہے اور تیرہ بری کیے جا چکے ہیں۔ جسٹس کوڈے نے محمد شاہد کو بم دھماکوں کی سازش سے بری کر دیا لیکن شیکھاڑی میں اسلحہ اور آر ڈی ایکس کی لینڈنگ میں قصوروار قرار دیا۔ |
اسی بارے میں ممبئی دھماکے: پانچ افراد مزید مجرم29 September, 2006 | انڈیا ’ پانچ بری، ایک قصوروار‘28 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، دو اور ملزم قصور وار22 September, 2006 | انڈیا بم دھماکے1993: مجرم نو ہو گئے21 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکہ : عبدالغنی قصوروار 19 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||