BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 September, 2006, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوے سالہ خاتون ’ستی‘: بیٹے گرفتار

ستی
ستی کی رسم بہت پرانی ہے لیکن اس پر انگریزوں کے دورے پر پابندی لگا دی تھی
ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک گاؤں میں ایک نوئے سالہ خاتون کواس کے شوہر کی چتا کے ساتھ اس کے چاروں بیٹوں نے مبینہ طور پر ’ستی‘ کر دیا ہے۔

ریاستی پولیس نے چاروں بھائیوں کو اپنی والدہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان پرالزام ہے کہ انہوں نے اپنی ماں کو ستی ہونے کے لیۓ اکسایا تھا۔

ہندو روایت کے مطابق بیوہ عورت اپنے شوہر کی چتا میں کود کر اپنی جان دیتی ہے تو وہ ستی کہلاتی ہے۔ یہ روایت صدیوں پرانی ہے لیکن حکومت نے اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پولیس کے اعلی اہلکار سورن سنگھ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ’ہمارے پاس اطلاع ہے کہ کروا دیوی سب لوگوں کے سامنے ستی ہوئی ہیں۔‘

مقامی لوگوں کے مطابق ستی ہونے والی خاتون کی عمر تقریباً نوے برس تھی اور اسے دلہن کی طرح سجا سنوار کر اس کے شوہر کی چتا تک لے جایا گیا اور پھر اس کے لڑکوں نے چتا میں آگ لگائی۔

پولیس نے ان لڑکوں کو ستی قانون کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

کروا دیوی کے لڑکوں کے علاوہ گاؤں والوں نے بھی اسے ستی کے لیئے اکسایا تھا اسی لیئے اس نے اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنے آپ کو اس کی چتا میں جلنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ستی خاتون کا تعلق اعلی ذات ہندو راجپوت برادری سے تھا۔

ستی پر پابندی تو برطانوی دور حکومت میں ہی عائد کردی گئی تھی لیکن ہندوستان کے بعض علاقوں میں آج بھی اسطرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

اس واقعے کی خبر ملتے ہی پڑوسی گاؤں کے لوگ چتا پر نذرانہ پیش کرنے کے لیۓ پہنچ گئے تھے۔ ضلع کے ایک سینئر پولیس افسر چنچل شیکھر کے مطابق اب اس مقام پر لوگوں کو آنے جانے سے روک دیا ہے اور وہاں کسی بھی طریقے کی تقریب کی اجازت نہیں ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شو راج سنگھ چوہان کا کہنا ہے کہ مجسٹریٹ کی تفتیش میں اگر اس واقع میں کچھ اور لوگ ملوث پائے گئے تو مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔

اس واقع کے بعد حکومت نے ستی پر اکسانے والوں کے خلاف سات برس کی سزا اور تیس ہزار روپۓ کا جرمانے کا حکم دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے اندر ریاست میں ستی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ حالانکہ اس سے قبل ایسے ہی ایک معاملے میں بیوہ کو بچا لیا گیا تھا۔ یہ دونوں ہی واقعات مدھیہ پر دیش کے پسماندہ علاقے بندیل کھنڈ میں پیش آئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد