BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 August, 2006, 10:50 GMT 15:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: دو خواتین کو سزائے موت

1996 میں ان خواتین کوگرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا تھا
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کی دو خواتین کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ ان خواتین پر چھوٹے بچوں کو اغواء اور انہیں قتل کرنے کا الزام تھا۔

انیس سو چھیانوے میں ان خواتین کوگرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔

پہلے ماتحت عدالت اور پھر ریاستی ہائی کورٹ نے بھی انہیں موت کی سزا کا حکم دیا تھا جس پر جمعرات کو سپریم کورٹ میں جسٹس کے بال کرشنن اور جسٹس جی پی ماتھر کی ڈیویژن بینچ نے موت کی مہر لگا دی۔

عدالت نے کسی طرح کی نرمی برتنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے انتہائی چھوٹے بچوں کو جس بے رحمی سے قتل کیا ہے۔ اس کے پیش نظر ان کے ساتھ کسی طرح کے رحم کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔

مجرم خواتین سیما گاؤت اور رینوکا شندے اس وقت ناسک جیل میں ہیں۔

پولیس کے مطابق انجنا بائی، اس کی دو بیٹیاں سیما گاؤت، رینوکا شندے اور اس کا شوہر کرن شندے مل کر چھوٹے معصوم بچوں کو ممبئی جیسے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں سے اغواء کرتے تھے۔ پھر انہیں اپنے پاس رکھ کر ان کو جیب تراشی کے فن کی تربیت دیتے تھے بعد میں یہ بچے لوگوں کی جیب کترتے یا ان کے گلے سے طلائی زنجیریں اچکتے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کے بچوں کے ساتھ ہونے پر لوگ ان پر شبہ بھی نہیں کرتے ہیں اور اسی کا فائدہ اٹھا کر یہ چھ برس تک لوگوں کو لوٹتے اور بچے اغواء کرتے رہے۔

 پولیس کے مطابق انیس سو نوے اور انیس سو چھیانوے کے درمیان انہوں نے تیرہ بچوں کو اغواء کیا جس میں سے نو بچوں کو انہوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان مجرموں نے اکثر پنڈھر پور یاترا یا گاؤں کے میلے سے بھی بچوں کو اغواء کیا۔ پھر وہ ان بچوں کو چوری کرتے وقت اپنے ساتھ رکھتے۔ اس دوران اگر بچہ بیمار ہو جاتا یا کسی طرح کا انہیں خطرہ ہوتا تو وہ اس بچے کا سر انتہائی بے رحمی کے ساتھ دیوار سے ٹکرا ٹکرا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے۔

پولیس کے مطابق انیس سو نوے اور انیس سو چھیانوے کے درمیان انہوں نے تیرہ بچوں کو اغواء کیا جس میں سے نو بچوں کو انہوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

پولیس نے انیس سو چھیانوے میں ان چاروں کو گرفتار کیا۔ انجنا بائی کا داماد کرن شندے اس دوران سرکاری گواہ بن گیا اور اس نے اس کھیل کا پردہ فاش کیا۔

اس دوران اہم مجرم انجنا بائی کی ایک سال بعد ہی موت واقع ہو گئی۔پولیس نے تفتیش کے دوران سات بچوں کی لاشوں کو بھی کرن کی نشاندہی کے بعد برآمد کر لیا تھا۔

ہندوستان میں بہت کم مواقع آئے ہیں جب عدالت نے کسی کو اس قسم کے کیس میں پھانسی کی سزا سنائی ہو۔

اسی بارے میں
موت کی سزا: پولیس درخواست
05 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد