دوردرشن سے میچ: سپریم کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں سپریم کورٹ نے سرکاری ٹی وی چینل، دور درشن، کو بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان چار میچوں کی سیریز سمیت دسمبر تک بھارت میں کھیلے جانے والے کرکٹ میچوں کو نشریاتی حقوق دے دئے ہیں۔ عدالت عظمی کے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں، بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ، پرسار بھارتی، اور اسٹیٹ سیٹلائٹ [سونی] کو ہدایت دی ہے کہ وہ میچ ٹیلی کاسٹ کے دوران اشتہارات سے حاصل شدہ رقم کے لیے علحیدہ اکاؤنٹ قائم کریں اور اس میں تمام ضابطوں کی پابندی ہونی چاہیۓ ۔ عدالت کا یہ فیصلہ عارضی ہے اور اسکا نفاذ آئندہ دسمبر تک ہوگا۔ اس حکم کے تناظر میں آسٹریلیا انڈیا کے درمیان ہونے والی چار میچوں کی ٹیسٹ سیریز، بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والا ایک روزہ پلیٹینیم جبلی میچ اور ہندوستان و جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز اب دوردرشن پر بھی دیکھی جا سکے گی۔ کرکٹ بورڈ کے انتظام کے مطابق '' ٹین اسپورٹس'' براہ راست ٹیلی کاسٹ کے لیے پیکیج تیار کریگا، دوردرشن ہندوستان میں نشر کرے گا جبکہ سونی کو بیرونی ممالک مین ٹیلی کاسٹ کے حقوق حاصل ہوں گے۔ کرکٹ میچوں کے ٹیلی کاسٹ کا تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب نیلامی میں سب سے زیادہ بولی لگا کر زی ٹیلی فلم نے ٹیلی کاسٹ کے حقوق حاصل کرلیے تھے۔ لیکن بعد میں ''اسٹار اسپورٹس'' اور ''ای ایس پی این'' نے کورٹ میں نیلامی کو اس بنیاد پر چیلینج کیا تھا کہ زی ٹیلی فلم کو میچ ٹیلی کاسٹ کا تجربہ نہیں ہے۔ اس کے بعد ہی ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے زی ٹیلی فلم کے کنٹریکٹ کو کالعدم قراردینے کے بعد دوردرشن کو بھی ٹیلی کاسٹ کی اجازت دیدی تھی۔ زی ٹیلی فلم نے بورڈ کے اسی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن عدالت نے کہا کہ چونکہ بورڈ نے تمام معاہدے منسوخ کرنے کے بعد دوردرشن کو میچ ٹیلی کاسٹ کرنے کی اجازت دی ہے اس لیے اسے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ عدالت نے ابھی اس تنازعہ پر اپنا فیصلہ نہیں سنایا ہے کہ کرکٹ کنٹرول بورڈ نے زي ٹیلی فلم کی نیلامی کو مسترد کرنا درست تھا یا نہیں؟ ۔ کورٹ نے کہا ہے کہ اس پر سماعت بعد میں ہوگی اور اگر زي کے الزامات صحیح ثابت ہوئے تو عدالت اسکے مفاد کی حفاظت کرےگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||