کوٹے کے حق اور مخالت میں جلوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں پسماندہ طبقہ کے لیئے تعلیمی اداروں میں ستائیس فیصد کوٹے کو کابینہ سے منظوری ملنے کے بعد اس سے متعلق ایک بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اس بل کی حمایت اور مخالفت میں ایک بار پھِر مظاہرے شروع ہوگئے۔ انسانی وسائل کے وزیر ارجن سنگھ نے بل کو لوک سبھا میں پیش کیا اور بحث ہوتے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ اِس بل کے متعلق دارالحکومت دِلّی کے جنتر منتر علاقے میں پسماندہ طبقہ کے بعض رہنماؤں نے ایک ریلی کی اور مطالبہ کیا ہے کہ اس بل میں بعض خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس پارٹی کے صدر اور دلتوں کے رہنما ادت راج نے بی بی سی کو بتا یا ہے کہ وہ حکومت سے ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے کوٹہ کی مخالفت کرنے والوں پر کوئی روک نہیں لگائی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہمیں یہ بھی شکایت ہے کہ حکومت ہمیں صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں کوٹہ دینے کی بات کررہی ہے جبکہ پہلے حکومت نے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں پسماندہ طبقہ کو کوٹہ دیئے جانے کی بات کہی تھی۔ لیکن موجودہ بل ناقص ہے اور ہمیں اس پر اعتراض ہے‘۔ ریلی میں شامل غازی آباد سے آئے ایک دلت ڈاکٹر سریندر ٹومل آریہ کا کہنا تھا کہ ایک دلت ہونے کے سبب ان کے ساتھ کئی طرح کے امتیازی سلوک ہوتے ہیں اور سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کو کوٹہ ملنا چاہیئے ’آج ہمیں کوٹہ مل رہا ہے تو اعلیٰ ذات کے ڈاکٹروں کو برا لگ رہا ہے۔ ہم گزشتہ 59 برسوں سے ذات پات کے بھید بھاؤں کو برداشت کررہے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ راجہ کا بیٹا ہی راجہ بن سکتا ہے‘۔ ایک طرف جہاں پارلیمنٹ سے کچھ دور جنتر منتر پر پسماندہ طبقے کے رہنماؤں کے احتجاجی نعروں سے گونج رہا تھا وہیں دِلّی کے کئی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طالب علم بِل کی مخالفت میں زبردست احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو جلد از جلد اپنا فیصلہ واپس لے لینا چاہیئے کیونکہ تعلیمی اداروں میں کوٹے کے نفاذ سے ذات پات کو مزید بڑھاوا ملےگا اور تعلیمی معیار پر بھی برا اثر پڑے گا۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ہرندر شرما کا کہنا تھا کہ ’ذات پات کی بنیاد پر کوٹہ دینا غلط ہے اگر کوٹہ دینا ہی ہے تو پرائمری سکولوں میں ہونا چاہیئے نہ کہ اعلی تعلیمی اداروں میں‘۔ آئی آئی ٹی دِلّی کے اسمت بترا کا کا کہنا تھا ’جب تک حکومت ہمارے مطالبے کو تسلیم نہیں کرتی ہے ہم اپنا احتجاج جاری رکھےگیں۔ہم امید کر رہے ہیں حکومت ہمارے حق میں فیصلہ لے گی‘۔ تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاج کرنے والے بعض ڈاکٹروں نے تین ماہ کے لیئے اپنا احتجاج معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے ابھی یہ بل پاس نہیں کیا ہے اس لیئے انہیں امید ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ پریس کانفرنس، سیمینار، ورک شاپس اور بحثے و مباحث کے ذریعے اس بل کے خلاف اپنا اجتجاج جاری رکھیں گے۔ حکومت نے اس تاریخی بل کو مجلس قائمہ کے حوالے کیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اسے منظوری کب ملتی ہے اور کیا حکومت اس مسئلے پر تمام جماعتوں کو متحد کر سکے گی۔ | اسی بارے میں ریزرویشن کی سیاست16 May, 2006 | انڈیا کوٹے کے لیئے نئی کمیٹی مقرر17 May, 2006 | انڈیا کوٹہ: بہار کے وزیراعلیٰ کی مشکل20 May, 2006 | انڈیا انڈیا:پسماندہ طبقے کےلیئے27 فیصدکوٹہ24 May, 2006 | انڈیا پسماندگی کوٹہ: حکومت سے جواب طلبی29 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||