لبنان: کشمیری کیا کہتے ہیں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان پر اسرئیل کی فوج کشی کے خلاف ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ایک گروپ نے ہڑتال کی کال دی تھی جس پر وادی میں جزوی رد عمل ہوا۔ اکثر حلقوں کا ماننا ہے کہ کشمیری آبادی کا غالب طبقہ، گو کہ اسلامی شناخت کے حوالے سے حساس ہے، مسلم دنیا میں انتہا پسند تحریکوں کے ساتھ منسوب نہیں ہونا چاہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی مسلح شورش میں پاکستان، سوڈان، افغانستان وغیرہ کے باشندوں کی شمولیت کے باوجود کشمیریوں میں فلسطین یا عراق جاکر ’جہاد‘ میں اپنے ’مسلم بھائیوں‘ کی مدد کا جذبہ کبھی اُبھر نہیں پایا۔ کشمیر میں چھ دہائیوں پر مشتمل علیحدگی پسند تحریک کی پوری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں یہاں کے لوگوں نے وسط ایشیا کی صورتحال پر احتجاجی مظاہرے کیئے ہیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد کی جانیں بھی تلف ہوئیں۔ لیکن مسلح شورش کی گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں یہ رجحان پہلے تو سُست پڑتا گیا اور بعد میں ختم ہو گیا۔ سینیئر صحافی جاوید آزر کہتے ہیں کہ انیس سو سرسٹھ کی عرب۔اسرائیل جنگ کے دوران شہر میں زبردست افراتفری مچ گئی تھی اور مسلسل مظاہروں کی وجہ سے کئی روز تک معمول کی زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں جب بیت المقدس کی بے حرمتی اور مسجدِ اقصیٰ کو شہید کرنے کی خبر اُڑی تو پوری وادی میں مظاہرے ہوئے اور ایک غیر ملکی سیاحوں سمیت کئی افراد مارے گئے۔
انیس سو چوراسی میں جب کانگریس حکومت نے امرتسر میں سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل کا کریک ڈاؤن کیا تو اسکے ردعمل میں ہوئے مظاہروں میں چھ کشمیری مسلم نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ آج بھی ان کو لوگ ’سکھ شہید‘ کہتے ہیں، یعنی وہ کشمیری جنہوں نے سکھ تحریک کے لیئے اپنی جان دی۔ گزشتہ سال ڈنمارک کے ایک اخبار میں شائع توہین آمیز کارٹون پر پوری مسلم دنیا اُبل پڑی تھی، لیکن کشمیر میں کوئی موثر رد عمل سامنے نہیں آیا تھا۔ ’بک آف نالیج‘ مظاہروں کے مقابلے میں یہ ایک معنی خیز تبدیلی تھا۔ اس تبدیلی کے حوالے سے سابق عسکری کمانڈر محمد اعظم انقلابی کا خیال ہے کہ پچھلے اٹھارہ سال کے دوران مسلح شورش کے ردعمل میں کشمیر پوری طرح ملیٹرائز ہوکر رہ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ لڑائی اس قدر سنگین تھی کہ مزاحمت کی جو بھی صلاحیت کشمیریوں میں تھی وہ ہند مخالف جدوجہد میں صرف ہوگئی ہے۔ ہمیں تو دبایا گیا۔ محض ایک نعرے پر گولی ماری گئی۔ ورنہ یہ تصّور نہ تھا کہ فلسطین میں ہمارے بھائیوں کو کاٹا جارہا ہو اور ہم چین سے بیٹھے رہیں۔‘ اڑسٹھ سالہ اعظم انقلابی، جو بہت پہلے عسکریت ترک کر چکے ہیں اور اب سیاسی تنظیم محاذ آزادی کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ ’گرتی صحت اور ناتوانی کے باوجود میرا دل کرتا ہے کہ لبنان جاکر کم از کم اسرائیلی ٹینک پر ایک پتھر پھینکوں۔ یہ میرا حال ہے، نوجوانوں کا کیا ہوگا۔ مگرسب جانتے ہیں ہم کس چنگل میں پھنسے ہیں‘۔ مُصنف اور جامعہ کشمیر میں شعبہ تاریخ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف وانی لبنان میں لڑائی سے عام کشمیریوں کی لاتعلقی کو مغربی قوّتوں کے ساتھ وابستہ دیرینہ توقعات کا نتیجہ مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انیس سو اکتیس میں ڈوگرہ فوج کے ہاتھوں کشمیری مسلمانوں کے قتل عام کے بعد جب لارڈ ریڈنگ کشمیر کے دورے پر آئے تو یہاں کے سرکردہ شہریوں نے انہیں ایک یاداشت پیش کی جسمیں ڈوگرہ فوج کے ظلم کی داستان کی روداد تھی۔
ڈاکٹر وانی مزید کہتے ہیں کہ یہ روایت آج بھی قائم ہے۔ان کا خیال ہے کہ گزشتہ ڈیڑ دہائی میں ’کشمیریوں نے امریکہ اور یورپی ممالک کے نام سینکڑوں یاداشتیں دی ہیں۔ چونکہ پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں حالات قدرے ٹھیک تھے اور لوگوں پر ظلم نہیں ہو رہا تھا اس لیئے اس دور میں کافی مغرب مخالف مظاہرے ہوئے۔ لیکن اب تو لوگوں کی جان پر بن آئی ہے۔ دراصل یہ کشمیریوں کے دل میں مغرب کے لیئے لارڈ ریڈنگ کے زمانے سے موجود سافٹ کارنر کا نتیجہ ہے کہ لبنان پر اسرائیل کی کھلی جارحیت کے باوجود وہ سڑکوں پر احتجاج کے لیئے نہیں نکلے۔ وہ اب بھی توقع رکھتے ہیں کہ امریکہ یا یورپ ان کی فریاد سنے گا‘۔ ہفتہ کو لبنان پر ’اسرائیلی جارحیت‘ کے خلاف ہڑتال کی کال حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے دی تھی۔ وادی میں ہڑتال کا جزوی اثر رہا۔ لال چوک سمیت مرکزی بازاروں میں دکانیں بند رہیں تاہم ٹریفک کی نقل وحرکت متاثر نہیں ہوئی۔ میرواعظ عمر کی قیادت والے حریت گروپ کے ساتھ وادی کے دو بڑے شیعہ راہنما بھی وابستہ ہیں۔ لیکن عمر گروپ نے معنی خیز طور پر لبنان صورتحال پر ردعمل سے اجتناب کیا۔ موقر ہفت روزہ چٹان کے مدیر طاہرمحی الدین اس حوالے سے کہتے ہیں کہ جب سے کشمیری ’اپنی لڑائی میں مصروف ہیں تب سے انہوں نے عالمی حالات پر ردعمل کرنا چھوڑ دیا ہے‘۔ بعض دیگر مبصرین کے مطابق فلسطین، لیبیا یا کسی اور مسلم مملکت کی خارجہ پالیسی میں کشمیر کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ بات اب کشمیریوں کو سمجھ آگئی ہے۔ سینئیر صحافی فیاض احمد کا کہنا ہے کہ ’مرحوم یاسر عرفات تو اندرا گاندھی کو سسٹر بلاتے تھے۔ انہوں نے کبھی کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا۔ ان کے اپنے مسائل ہیں اور ہمارے اپنے۔ یہ بات آج واضع ہو گئی۔ گزشتہ ہڑتال ہلاکتوں کے خلاف تھی، سڑکوں پر اُلو بول رہے تھے۔ آج بچے امتحان کے لیئے نکل رہے ہیں اور ٹریفک جام بھی ہو رہا ہے‘۔ | اسی بارے میں ای یو سفیر کا سرینگر میں ُدھماکہ‘18 June, 2004 | انڈیا ’انڈیا کی نمائندگی میرا خواب ہے‘26 June, 2006 | انڈیا بیٹے کی تلاش درد دل بن گئی02 July, 2006 | انڈیا فوجی انخلاء کے مطالبے میں شدّت06 July, 2006 | انڈیا ممبئی بم حملے: کشمیر امن عمل بھی متاثر14 July, 2006 | انڈیا ’دہشت گردی، سختی ضروری‘16 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||