’انڈیا کی نمائندگی میرا خواب ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ آپ نے اچھی بولنگ کی، لیکن اگر آپ ذرا تحمل سے کام لیں تو اس سے بہتر کر سکتے ہيں‘۔ حال ہی میں سچن نے یہ بات چنئی شہر میں نیٹ پریکٹس کے دوران کشمیر کے ایک جواں سال اور تیز رفتار بالر سمیع اللہ بیگ کی تعریف میں کہی۔ سرینگر کے پائین شہر کے رہنے والے 22 سالہ سمیع اللہ گزشتہ چار برس سے مسلسل رانجی ٹرافی میں جموں و کشمیر کی ریاستی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں اور رواں سال اپریل کے مہینے میں وہ اس وقت توجہ کے مرکز بنے جب ہندوستان کی ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن سے انہیں بلاوا آیا۔ ایم آر ایف پیس فاؤنڈيشن تیز بالروں کے ہنر کو مزید سنوارنے اور ان میں نکھار پیدا کرنے کے لیئے ہندوستان بھر میں جانی جاتی ہے۔ عرفان پٹھان، ظہیر خان ، لکشمی پتی بالا جی اور سری سانت جیسے باصلاحیت گیند بازوں کو تیار کرنے والی اس فاؤنڈیشن کی طرف سے سمیع اللہ کا انتخاب ان کے لیئے بہت بڑا اعزاز ہے۔
سمیع کہتے ہیں کہ’اگر چہ میرے دل میں پہلے سے ہی ایک خفیف سا خیال تھا کہ میں یہاں تک پہنچوں گا لیکن جب واقعی میں ایم آر ایف کی طرف سے بلاوا آیا تو یہ میرے لیئے یقیناً یہ قابل فخر بات تھی‘۔ سمیع کی گیند بازی کے ہنر کو نکھارنے میں آسٹریلیا کے سابق نامور تیز گیند باز ڈینس للّی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ للّی کے وہ الفاظ سمیع کے لیئے انتہائی حوصلہ افزا ہیں کہ’اگر تم کرکٹ کی دنیا میں کچھ بڑا نہیں کر پائے تو وہ یقیناً تمہاری بد قسمتی ہوگی‘۔ اپنے رانجی کیرئر میں سمیع نے اب تک چار ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ میچوں میں شرکت کی ہے جن میں انہوں نے ہندوستانی ٹیم کے موجودہ وکٹ کیپر اور دھواں دار بلے باز مہندر سنگھ دھونی، اجے جدیجہ، دنیش مونگیا اور آکاش چوپڑا جیسے بلے بازوں کے خلاف اپنی گیند بازی کے جوہر دکھائے ہیں۔
اسٹرکچرل انجینئرنگ میں ایم ٹیک کی تعلیم حاصل کر رہے سمیع کی طبعیت بچپن سے ہی کرکٹ کی طرف مائل تھی۔ سمیع کہتے ہیں کہ ان کے والد کو ان کا کھیل کود میں دلچسپی لینا قطعی پسند نہیں تھا مگر اس معاملہ میں وہ اپنی والدہ کے بےحد مشکور ہیں جنہوں نے سمیع کی ہر وقت حوصلہ افزائی کی۔ رانجی ٹرافی کھیلنے کے بعد سمیع کے مطابق اب ان کے والد بھی ان سے خوش ہیں۔ درازقد سمیع ویسٹ انڈیز کے کورٹنی والش اور پاکستان کے وسیم اکرم کو اپنا رول ماڈل مانتے ہیں۔ کرکٹ میں اب تک کی کامیابی میں سمیع اللہ جن لوگوں کے ممنون ہیں ان میں سب سے اہم نام ایم آر ایف پیس فاؤنڈیشن کے چیف کوچ ٹی اے سیکار کا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ خود کو تیز رفتار بالروں شعیب اختر اور بریٹ لی کے مدِمقابل تصور کرتے ہیں، سمیع اس مسابقت سے انکار ہوئے کہتے ہیں کہ ’دنیائے کرکٹ کے ان عظيم ستاروں سے میرا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ وہ جس میدان کے شہسوار ہیں میں اس میں ابھی گھٹنیوں چل رہا ہوں‘۔
رواں سال جنوری اور مارچ کے مہینوں میں بلاوے کے بعد اپریل میں تیسری بار سمیع کو ایم آر ایف نے چار مہینوں کے تربیتی کیمپ میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔ تندولکر کوگیند کرنا اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرنا سمیع اللہ کی زندگی کے دو بڑے خواب ہیں۔ ان میں سے ایک تو پورا ہوگیا لیکن دوسرے کی تعبیر ملنا ابھی بھی باقی ہے۔ تاہم سمیع کو امید ہے کہ اس برس کی رانجی ٹرافی میں اگر وہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان کے دوسرے خواب کے پورا ہونے کے امکانات روشن ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ’ معلوم نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ میں ایک دن ضرور ہندوستانی ٹیم کا حصہ بنوں گا‘۔ | اسی بارے میں ترنگا اب بدن پر لہرائے گا06 July, 2005 | انڈیا پہلے کرکٹ چچا اور اب بھتیجا15 April, 2005 | انڈیا ہندوستان : کرکٹ بورڈ کی لڑائی 09 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||