BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 April, 2005, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پہلے کرکٹ چچا اور اب بھتیجا

کرکٹ
سدھیر کمار کرکٹ کے جنون میں اب تک سائیکل پر ہزاروں کلومیٹر کی مسافت طے کر چکے ہیں
کرکٹ کے شائقین پاکستان کے ہر دل عزیز ’چچا’ عبدالجلیل سےاچھی طرح واقف ہوں گے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں ’چچا’ کے ایک’بھتیجے’ ہیں جو کرکٹ کے دیوانے کہے جا سکتے ہیں۔

مظفرپور کے 23 سالہ سدھیر کمار پر کرکٹ میچ اور کھلاڑیوں کا جنون اس قدر سوار ہے کہ وہ اب تک سائیکل پر ہزاروں کلومیٹر کی مسافت طے کر چکے ہیں۔

سدھیر فی الوقت دلی میں 17 اپریل کو ہونے والے بھارت پاک سیریز کے آخری ون ڈے کے لیے سائیکل پر سوار ہوکر منزل کے لیے گامزن ہیں۔

دلی سے واپس جب مظفر پور پہنچیں گے تو سائیکل پر وہ تقریباً دس ہزار کلو میٹر کی مسافت طے کر لیں گے۔

سدھیر سب سے پہلے 2002 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بھارت کے میچ کو دیکھنے کے لیے گیارہ سو کلومیٹر کی دوری سائیکل پر طے کر جمشیدپور پہنچے تھے۔ اس کے بعد 2003 میں سچن تندولکر سے ملنے سائیکل پر ممبئی پہنچ گۓ ۔

سدھیر بتا تے ہیں کہ سچن سے ملنے ان کے گھر پہنچے تو وہ دن بھر باہر کھڑے رہے لیکن سچن سے نہ مل سکے۔ شام ہونے پر گارڈ نے جب سچن کو اطلاع دی تو سچن نے ان سے ملاقات کی۔

ان سے پھولوں کا گلدستہ لیا اور اپنی ایک ٹی شرٹ دی۔

سچن کو جب سدھیر نے یہ بتایا کہ مظفرپور میں لیچی بہت اچھی ہوتی ہے تو سچن نے ان سے لیچی لانے کو کہا اتفاق کی بات ہے کہ پچھلے سال لیچی کے موسم میں سچن ممبئ سے باہر تھےاس لیے وہ اس بار لیچی لے جانے کی کوشش کریں گے۔

سدھیر نے گزشتہ برس بھی سائیکل سے کولکتہ جاکر میچ دیکھا اور سورو گنگولی سے ملاقات کی تھی۔

News image
سچن سے ملنے سائیکل پر ممبئی گئے

وہ بتاتے ہیں کہ پہلے وہ ٹکٹ خرید کر میچ دیکھتے تھے لیکن اب پلییرز گیسٹ کا پاس مل جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سائیکل لیکر وہ ٹیم بس کے نزدیک پہنچ جاتے ہیں اس کے لیے کئی بار انہیں پولیس کی لاٹھیاں کھانی پڑی ہیں۔

لیکن اگر سچن یا سورو کی نظر پڑ گئی تو انہیں پاس مل جاتا ہے۔

سدھیر نے بتایا کہ حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران وہ کولکتہ گۓ تو کسی کھلاڑی سے ملاقات نہ ہو سکی۔ اس لیے انہیں ٹکٹ لے کر میچ دیکھنا پڑا۔ وہاں انکی نظر ’چچا‘ پر پڑ گئی مگر عبدل جلیل صاحب نے ان سے ملنے سے انکا کر دیا۔

اتفاق سے ایک ٹی وی چینل نے چچا کو پروگرام میں شرکت کے لیے بلایا جس میں سدھیر بھی مدعو تھے۔ اس بار دونوں کی خوب اچھی ملاقات ہوئی۔

چچا نے سدھیر کو اپنا وزٹنگ کارڈ دیا اور اگلے میچوں میں شامل ہونے کی دعوت بھی۔

سدھیر نے بتایا کہ چچا کی طرح ہر میچ دیکھنا مشکل ہے۔ البتہ وہ دلی کے ون ڈے میچ کے دوران ان سے پھر ملیں گے۔

سدھیر بی اے کے طالب علم ہیں اور مظفرپور کی ملک ڈیری میں جز وقتی ملازم ہیں۔

ہر میچ سے پہلے وہ تین ہزار روپے، میچ کی جگہ تک پہنچنے کے لیے سڑک کا نقشہ اور شہر کے میئر کی ایک سفارشی خط لے کر کوچ کر تے ہیں۔ راستے میں اسی رقعہ کی بدولت انہیں سونے کی جگہ مل جاتی ہے۔

میدان کے اندر یہ اپنے بدن پر کرائی گئي پنٹنگ سے بہ آسانی پہچان لیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد