BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 06:22 GMT 11:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف بیان، انڈین ردعمل ملا جلا

 تمام اخبارات نے بھی صدر مشرف کی تقریر کو صفحہ اول پر نمایاں طور پر شائع کیا ہے
تمام اخبارات نے بھی صدر مشرف کی تقریر کو صفحہ اول پر نمایاں طور پر شائع کیا ہے
ممبئی دھماکوں سے متعلق پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے بیان پر ہندوستان مین ملا جلا ردعمل ہوا ہے۔ ملک کے تقریبً سبھی ٹی وی چینلوں نے صدر مشرف کے خطاب کو جزوی یا پورے طور پر پیش کیا اور اس پر بحث بھی کی ہے۔ تمام اخبارات نے بھی صدر مشرف کی تقریر کو صفحہ اول پر نمایاں طور پر شائع کیا ہے لیکن بیشتر نے فوری طور پر کسی تبصرے سے گریز کیا ہے۔

حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی با قاعدہ بیان جمعہ کے روز جاری کیا جائے گا
لیکن ہندوستان میں عمومی تاثر یہ ہے کہ پاکستانی صدر نے کوئی نئی بات نہیں کہی ہے۔

حزب اختلاف کے ایک رہنما اور سابق وزیرخارجہ یشونت سنہا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’صدر مشرف اس سے پہلے بھی تفتیش میں تعاون کی پیشکش کر چکے ہیں لیکن جہاں تک ثبوتوں کی بات ہے،وہ اکشردھام مندر پر حملے کا معاملہ ہو یا پارلیمنٹ پر، ہندوستان دسیوں بار پاکستان کا ہاتھ ہونے کا ثبوت دے چکا ہے۔‘

حکمران کانگریس پارٹی کے ترجمان ستیہ ورت چترویدی نے کہا کہ ’سبھی جانتے ہیں کہ داؤد ابراہیم کہاں ہیں ، لشکر اور حزب المجاہدین کا صدر دفتر کہا ں ہے۔ کسی کو کوئی ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ممبئی میں گیارہ جولائی کے بم دھماکون کے بعد ہندوستان نے الزام لگایا تھا کہ ان دھماکوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے لیکن گزشتہ دنوں امریکہ کے نائب وزیرخارجہ رچررڈ باؤچر کی طرف سے یہ بیان آنے کے بعد کہ الزام ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر ہی عائد کیے جائیں، ہندوستان کا رویہ محتاط ہو گیا ہے۔

دھماکوں کے بعد فوری ردعمل کے اظہار میں ہندوستان نے خارجہ سکریٹریوں کی بات چیت سمیت پاکستان سے ہرطرح کے مذاکرات روک دیے تھے۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے یہ مذاکرات موجودہ حالات میں ملتوی کیے گئے ہیں منقطع نہیں۔

ممبئی بم دھماکوں کی ذمے داری کسی تنظیم نے قبول نے نہیں کی ہے تاہم تفتیشی ایجنسیاں ان حملون میں پاکستان میں موجود بعض شدت پسند تنظیوں کا ہاتھ ہونے کا شبہہ ظاہر کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد