بلاگرز حکومت سے ناخوش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں ممبئی بم دھماکوں کے بعد ’بلاگرز برادری‘ اور حکومت کے درمیان جنگ کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ یہ صورت حال حکومت کی ایک ہدایت کے بعد پیدا ہوئی ہے جس کے بارے میں بلاگرز کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے ویب بلاگز کو بلاک کرنا چاہتی ہے۔ گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت کے احکامات پر انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی سو سے زیادہ کمپنیوں نے 17 ویب سائٹس بلاک کر دی ہیں۔ بلاک کی جانے والی زیادہ تر سائٹس گوگل بلاگ سپاٹ کی ہیں۔ گوگل بلاگ سپاٹ ایک بین الاقوامی ’ویب لاگنگ ہوسٹنگ‘ سروس ہے۔ حکومت ان ویب سائٹوں کو ’انتہا پسند‘ خیال کرتی ہے۔ تاہم قومی سلامتی کے نام پر اٹھائے گئے اس قدم سے کئی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے حکومت نے ان ویب سائٹس کو اس لیے بلاک کیا ہے کیونکہ حکومت کو خطرہ ہے کہ ان کی مدد سے مذہبی، نسلی اور قومی منافرت پھیلا ئی جا سکتی ہے۔ بلاگرز نے اس پابندی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے اظہار ازادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ ایک بلاگر کا کہنا تھا کہ’'ہم حکومت سے جواب چاہتے ہیں۔ حکومت نے جلد بازی میں کوئی غلطی کی ہے یا وہ واقعی سنسر شپ لگا رہی ہے‘۔ کئی بلاگرز نے ملک کے آزادی اطلاعات کے نئے قانون کے تحت حکومت کے اس عمل کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قانون عوام کو ایسی اطلاعات تک رسائی کا حق دیتا ہے جو حکومت کے پاس موجود ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان ویب سائٹس کے بلاک کرنے کے بارے میں ابھی تک کوئی بات نہیں کی گئی ہے کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ جن ویب سائٹوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں ہندو یونٹی ڈاٹ کام، ایکسپوزنگ دی لیفٹ ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام، پاجامہ ایڈیٹرز ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام، کامن فوک کامن سینس ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام، ہندو ہیومن رائٹس ڈاٹ اورگ اور پرنسس کیمبرلی ڈاٹ سپاٹ ڈاٹ کام شامل ہیں۔ ہندوستان میں انٹر نیٹ سروسز فراہم کرنے والوں کے پاس ابھی ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جس کی مدد سے وہ کسی خاص سروس کو روک سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ حکومت کے حکم پر پورا کا پورا نیٹ ورک بلاک کر دیا گیا ہے۔ بلاگ سپاٹ، جیو سٹیز اور ٹائپ پیڈ جیسے بڑے بلاگنگ نیٹ ورک بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ قومی سائبر سکیورٹی کے انچارج گلشن رائے نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پورے بلاگنگ نیٹ ورک کو بند کرنے کا کوئی حکم دیا گیا ہے۔ ’سرکاری حکم کے تحت بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام کے چار بلاگوں پر پابندی لگائی کئی ہے۔ پوری ویب سائٹ کو بند کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے‘۔ ذرائع ابلاغ نے سائبر لاء کے ماہر سرب جیت رائے کے حوالے سے لکھا ہے کہ’سائٹس کو بلاک کرنے کا فیصلہ ایک احمقانہ عمل ہے اور اس سے پتہ چـلتا ہے کہ ہمارے بیوروکریٹس ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے‘۔ ایک بلاگر شیلیش بھارت واسی کو اس بات پر شدید مایوسی ہے کہ وہ پابندی کی وجہ سے بلاگ نہیں لکھ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس لیے لکھتے ہیں تا کہ لوگ پڑھ سکیں۔ پابندی کی وجہ سے ہمارا لوگوں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’اب امن کا عمل مشکل ہوگیا ہے‘15 July, 2006 | انڈیا ممبئی دو منٹ کے لیئے رک گئی18 July, 2006 | انڈیا ممبئی: حملہ آوروں کا سراغ نہیں ملا18 July, 2006 | انڈیا زندگی تھم گئی ہے18 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ای میل پر گرفتاری19 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||