BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 09:33 GMT 14:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھیونڈی: دو پولیس اہلکار جل کر ہلاک

پولیس لاٹھی چارج
پولیس نے لاٹھی چارج کیا لیکن اس کے بعد پولیس پر پتھراؤ شروع ہوگیا
مہاراشٹر کے علاقے بھیونڈی میں مسلمانوں اور پولیس کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور بدھ کو پولیس فائرنگ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد گزشتہ شب مشتعل ہجوم نے چھ سرکاری بسوں کو آگ لگا دی جس میں دو پولیس اہلکار جل کر ہلاک ہو گئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق رات گئے ایک مشتعل ہجوم نےگشت میں مصروف دو پولیس کانسٹیبلوں کو موٹر سائیکل سمیت ایس ٹی کی جلتی ہوئی بسوں میں جھونک دیا جس سے وہ جھلس گئے اور ان کی موت واقع ہوگئی۔

پولیس نے رات ہی متاثرہ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا اور علاقے میں پولیس کی بھاری جمیعت تعینات کر دی گئی۔ اس کے علاوہ ریاستی ریزرو پولیس اور سریع الحرکت فورس کی چھ کمپنیاں بھی متعین کی گئی ہیں ۔

پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر پسریچا نے بی بی سی کو بتایا کہ جن لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پسریچا نے لوگوں کو پولیس کے خلاف بھڑکانے والے عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حالات بہتر ہیں اور پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین شام تین بجے ہو جائےگی۔

بھیونڈی کے مسلمان قبرستان کی زمین پر پولس اسٹیشن بنانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ بدھ کو مظاہرین نے قبرستان میں جاری تعمیراتی کام روکنے کے لیئے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا۔ مشتعل ہجوم پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور پتھراؤ سے متعدد زخمی ہوئے تھے ۔زخمیوں میں شہریوں کے علاوہ ڈپٹی پولیس کمشنر آر ڈی شندے، دو اسسٹنٹ پولس کمشنر اور دو انسپکٹر بھی شامل تھے۔

مقامی ڈاکٹر ریحان انصاری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس زمین پر پولیس اسٹیشن بنائے جانے کی کئی دنوں سے مخالفت ہو رہی تھی اور کچھ روز پہلے لوگوں نے کوارٹر گیٹ مسجد سے پولس اسٹیشن تک ایک جلوس بھی نکالا تھا۔ اب پولس اس جلوس میں شریک نوجوانوں کےگھر جا کر انہیں پکڑ اور پریشان کر رہی ہے۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پولس کمشنر ڈی شیوانندن ، مسلم مذہبی تنظیم رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری، وقف بورڈ کے چیئرمین ایم اے عزیز اور سابق ایم ایل اے رشید طاہر مومن کے درمیان ایک میٹنگ بھی ہوئی جس میں حالات کو بہتر بنانے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔

رشید مومن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’متنازعہ زمین قبرستان کے لیئے مختص ہے لیکن اس پر ایک عرصہ سے پولس کوارٹرز بنے ہوئے ہیں ۔دراصل سارے معاملہ کو متنازعہ رخ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں کے مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اس جگہ اگر دوبارہ رہائشی عمارت بنتی ہے تو انہیں اعتراض نہیں لیکن وہاں پولیس سٹیشن نہیں بننا چاہئیے کیونکہ اگر پولیس سٹیشن بنا تو سکون غارت ہو جائےگا ۔پولیس اسٹیشن میں کیا سرگرمیاں ہوتی ہیں اس سے ہر کوئی واقف ہے جبکہ قبرستان اور اس کے اطراف میں خاموشی ضروری ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد