مہاراشٹر: قبرستان تنازعہ، دو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر میں پاور لوم صنعت کے لیئے مشہور علاقہ بھیونڈی میں بدھ کے روز پولیس اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں پولیس کے مطابق دو نوجوان فائرنگ میں ہلاک ہوئے اور ڈپٹی پولیس کمشنر سمیت تقریباً بیس پولیس والے زخمی ہوئے ہیں۔ بھیونڈی میں مسلمان قبرستان کے لیئے وقف زمین پر پولیس اسٹیشن بنائے جانے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے ۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ اس زمین پر تقریباً ستر برسوں سے سرکاری کوارٹرز بنے ہوئے تھے اور وہاں پولیس سٹیشن بنانے کی انہوں نے متعلقہ انتظامیہ سے اجازت لے لی تھی ۔ مہاراشٹر کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر پسریچا نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بھیونڈی میں کچھ عرصہ سے اسی زمین کو لے کر مسلمان تنظیمیں مخالفت کر رہی تھیں جس زمین پر پولیس سٹیشن بنایا جا رہا ہے۔ وہ قبرستان سے منسلک ضرور ہے لیکن اس پر ایک عرصہ سے پولیس کوارٹرز بنے ہوئے ہیں پولیس وہاں سرکار کی منظوری کے بعد ہی پولیس سٹیشن بنا رہی تھی۔ ان کے مطابق مظاہرے کی اجازت نہ دینے کے باوجود تقریبا تین ہزار افراد وہاں جمع ہوئے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا ۔پولیس نے لاٹھی چارج کیا لیکن اس کے بعد پولیس پر پتھراؤ شروع ہو گیا جس میں ایک ڈی سی پی سمیت بائیس پولیس اہلکار زخمی ہوئے‘۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دو مسلمان جوانوں کی موت واقع ہو گئی۔ پسریچا کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک پولیس نے کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے اور اس وقت حالات قابو میں ہیں ۔پولیس نے کسی بھی سیاسی پارٹی کے رہنما کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی ہے‘۔ ممبر اسمبلی اور مہاراشٹر وقف بورڈ چیئرمین ایم اے عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ زمین قبرستان کے لیئے مختص ہے اور وقف بورڈ کی زمین ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ زمین ایک عرصہ سے پولیس کے قبضہ میں ہے اور اس پر کوارٹرز بنے تھے‘۔
عزیز نے انکشاف کیا کہ مہاراشٹر کی تقریباً نوے فیصد زمینوں پر دوسروں کا قبضہ ہے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ زمین ان کی اپنی ہو گئی ۔وہ آج بھی قانونی طور پر وقف بورڈ کی ہی ملکیت ہیں۔ انہوں نے کہا ’یہاں پولیس نے زیادتی کی ہے اور اگر ان کے دل میں چور نہیں ہوتا تو وہ دن رات کام کر کے جلد از جلد اسے بنانے کی کوشش میں نہ لگتے‘۔ مسلم مذہبی تنظیم رضا اکیڈمی کے صدر محمد سعید نوری کے مطابق ’وہ زمین قبرستان کے لیئے مختص ہے اور اسی سے منسلک پہلے سے قبرستان موجود ہے۔ وہاں پولیس سٹیشن نہیں بننا چاہئے کیونکہ یہ سب کو پتہ ہے کہ وہاں پھر مندر بنے گا۔ اس لیئے مسلمان اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا‘۔انڈیا میں ہر پولیس سٹیشن میں مندر ہے جہاں پوجا پاٹ ہوتی ہے۔ نائب وزیر اعلی اور وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے اس معاملہ کی تحقیقات کے لیئے پانچ رکنی کمیٹی کی تشکیل کی ہے جو یہ تحقیقات کرے گی کہ زمین کا اصل وارث کون ہے ۔حکومت نے کمیٹی کو دس دنوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کے لیئے کہا ہے۔ بھیونڈی کی زیادہ تر آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو پاور لوم صنعت سے جڑے ہیں۔گنجان آبادی والے اس علاقہ میں اس سے پہلے بھی کافی فسادات ہو چکے ہیں اور یہ علاقہ پولیس کے لیئے حساس علاقہ ہے لیکن 1992-93 میں جب پوری ممبئی فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں تھی یہاں امن تھا۔ | اسی بارے میں مندر پرحملے کے مجرموں کو پھانسی01 July, 2006 | انڈیا ہندو مسلم رشتوں پر دستاویزی کتاب17 June, 2006 | انڈیا ہندو لیڈر کی کار سے لاشیں برآمد18 May, 2006 | انڈیا لاشیں مسلمانوں کی ہیں: رپورٹ25 May, 2006 | انڈیا وڈودرہ: ایک شخص کو زندہ جلا دیا گیا03 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||