ممبئی: تین دن سے لگاتار بارش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی مہاراشٹر کے دارالخلافہ ممبئی میں گزشتہ تین دنوں سے لگاتار جاری بارش کے نتیجہ میں پورا نظام زندگی درہم برہم ہوگیا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق پیر کی صبح سے اب تک سانتاکروز علاقہ میں سولہ سینٹی میٹر جبکہ قلابہ میں تیرہ سینٹی میٹر بارش ہو چکی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ موسلادھار بارش کا یہ سلسلہ آئندہ پانچ دنوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اتوار کے روز ورلی کے علاقے میں ساحل سمندر پر تفریح کے لیئےگئے ایک جوان کو طوفانی لہریں بہا لےگئیں جبکہ ممبئی کے ہی ایک دوسرے ساحل سے مزید دو افراد کے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے ایک کی لاش ڈھونڈ لی گئی ہے۔ تین دن کی بارش نے ممبئی کے شہریوں کی مصیبتوں میں اضافہ کیا ہے۔ کئی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے۔ ممبئی کے مضافات سانتاکروز ،کالینہ ،کرلا ، کاندیولی، لوئر پریل، چیمبور، سائن میں تین فٹ سے زیادہ پانی بھر گیا ہے اور کئی مقامات پر لوگ محفوظ مقامات پر پناہ لینے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس چھبیس جولائی کو ممبئی میں ہونے والی طوفانی بارش میں بھی یہی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے اور اب بھی یہاں وہی خطرناک صورتحال پیدا ہو رہی ہے ۔ ایس وی روڈ پر واقع میریلا اپارٹمنٹ کی مکین سوزن کا کہنا ہے کہ’ ہمارےگھر کے باہر فٹ پاتھ کھدا ہوا ہے جسے ابھی تک بھرا نہیں گیا۔ یہاں پانی بھر گیا ہے اور اسی لیئے ان کی سوسائٹی نے صدر دروازہ بند کر دیا ہے ہم لوگ بلڈنگ سے باہر نکل نہیں سکتے‘۔
کھار ، ملن ، اندھیری ، ملاڈ اور دہیسر کے ’سب وے‘ پانی بھرنے کی وجہ سے بند کر دیئےگئے ہیں۔ کئی راستوں پر پانی بھر جانے کی وجہ سے ٹریفک کا رخ بھی موڑا گیا ہے کیونکہ گزشتہ برس کی طوفانی بارش میں لوگوں کو پانی میں اپنی گاڑیاں چھوڑنی پڑیں تھیں جس کی وجہ سے کئی دنوں تک راستے بند رہے تھے۔ ممبئی کے میونسپل کمشنر جانی جوزف کا کہنا ہے’اس سال نالوں کی صفائی اور میٹھی ندی کو چوڑا کرنے کی وجہ سے کئی مقامات پر پانی نہیں بھرا اور اسی وجہ سے اتنی زیادہ بارش کے بعد بھی شہر میں سیلابی کیفیت پیدا نہیں ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیئے ہماری ٹیم مستعد ہے‘۔ ممبئی کارپوریشن کے رابطہ عامہ افسر سوداگر جادھو کے مطابق ممبئی اور اس کے مضافات میں چھ مقامات پر خستہ حال عمارتوں کی دیواریں گرنے کی اطلاع ملی ہے لیکن کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ ’مہاراشٹر بلڈنگز ریپئیرز اینڈ ری کنسٹرکشن بورڈ‘ ممبئی کی سو سے زیادہ خستہ حال عمارتوں کو خطرناک قرار دے چکا ہے اور انہیں خالی کرانے کے لیئے پولیس کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ گزشتہ برس کی بارشوں کے بعد جنوبی ممبئی کی ٹیمکر سٹریٹ میں صدف نامی عمارت منہدم ہوگئی تھی اور اس حادثے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ممبئی کے تمام نجی اور سرکاری اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے اور حکومت مہاراشٹر کے محکمۂ تعلیم نے سکولوں اور کالجوں کو ہدایت کی ہے کہ تیز بارش میں وہ اپنی جانب سے چھٹی کا اعلان کر سکتے ہیں ۔ ممبئی کی لائف لائن کہلانے والی لوکل ٹرینوں کی پٹڑیاں بھی شدید بارش سے متاثر ہوئی ہیں اور ٹرینیں دھیمی رفتار سے چل رہی ہیں اس کے علاوہ مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے ہوائی جہاز کی پروازوں میں بھی تاخیر ہو رہی ہے ۔ ممبئی کے ڈیڑھ کروڑ شہری بہرحال گزشتہ برس جولائی میں طوفانی بارش سیلاب کی وجہ سے خوفزدہ ہیں کیونکہ اس میں تقریباً چار سو لوگوں نے اپنی جانیں گنوا دی تھیں اور اس کے بعد پھوٹ پڑنے والے وبائی امراض نے متعدد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔ | اسی بارے میں مہاراشٹر میں مون سون، متعدد ہلاک02 June, 2006 | انڈیا جنوب بھارت میں طوفان اور بارشیں 28 October, 2005 | انڈیا جنوب میں طوفان اور بارش کا قہر 27 October, 2005 | انڈیا بارش سے کم از کم 30 ارب کا نقصان02 August, 2005 | انڈیا ممـبئی میں بارش کا قہر جاری 31 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||