’راہول کی حالت بہترہوئی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے آنجہانی رہنما پرمود مہاجن کے بیٹے راہول مہاجن کی بیماری کا معاملہ ابھی بھی پراسرار بنا ہوا ہے۔ جہاں ایک طرف پولیس اس معاملے میں ’ڈرگز‘ یعنی نشیلے مادہ کے استعمال کی تصدیق کر رہی ہے وہيں دوسری جانب راہول کا علاج کر نے والے ڈاکٹرز اب تک ان کی بیماری کی اصل وجہ کا پتہ نہیں لگا سکے ہیں۔ پولیس نے اس معاملے کے اہم ملزم ساحل زارو کو سنیچر کے روز سرینگر میں گرفتار کیا اور اتوار کو انہیں دلی لایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ساحل کو 12 جون تک پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ دلی میں سینئر پولیس اہلکار منیش اگروال نے صحافیوں کو بتایا کہ’ساحل سے ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ ساحل نے ہی راہول مہاجن اور وویک موئٹرا کو ’ڈرگز‘ فراہم کی تھیں۔ جمعہ کی صبح راہول مہاجن کو انتہائی بیمار حالت میں دلّی کے اپالو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کے والد کے سیکرٹری ویویک موئترا کو بھی ان کے ساتھ ہی ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا تھا۔ مسٹر اگروال نے بتایا کہ اس دوران جب انہوں نے راہول مہاجن کا بیان لینے کے لیئے ہسپتال کے اہلکاروں سے اجازت مانگی تو ہسپتال کے اہلکاروں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ بیان دینے کی حالت میں نہیں ہیں۔ اپالو ہسپتال نے اتوار کو جاری کیئےگئے اپنے بیان میں کہا کہ راہول کی حالات مزید بہتر ہوئی ہے۔
انڈین پولیس اس سلسلے میں چند ایسے افراد سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے جن کا تعلق نشیلی ادویات سے ہے۔ دوسری جانب ملک کے سرکردہ اسپتال آل انڈیا انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز نے وویک موئترا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو سونپ دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الوقت اس رپورٹ سے مسٹر موئترا کی موت کی وجہ پتہ نہیں چل سکی ہے اور انہیں مزید ٹیسٹوں کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ ابتدائی خبروں میں کہا گیا تھا کہ راہول کی بیماری کی وجہ زیادہ مقدار میں ڈرگز کا استعمال ہوسکتا ہے لیکن دلی کے اپالو ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کے خون میں کوکین یا کسی دوسرے نشہ آور مادے کا سراغ نہیں ملا ہے۔ راہول کے والد پرمود مہاجن بی جے پی کے ایک اعلیٰ رہنما تھے اور انہیں اپریل کے اواخر میں مبینہ طور پر ان کے بھائی نےگولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ گزشتہ دنوں راہول مہاجن نے بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شرکت کی تھی اور اطلاعات تھیں کہ وہ باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں اور انہیں اپنے والد کی جگہ راجیہ سبھا کا ممبر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہفتے کو بی جے پی نے اس معاملے سے اپنے آپ کو دور رکھتے ہوئے اسے مہاجن خاندان کا نجی معاملہ قرار دیا تھا۔ تاہم اتوار کو پارٹی کے سینئر رہمنا اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے منالی سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ’جوانی میں اکثر ایسی غلطی ہو جا تی ہے اور پارٹی راہول کو صحیح راستے پر لانے کی پوری کوشش کرے گی‘۔ | اسی بارے میں مہاجن کے بیٹے کی حالت نازک02 June, 2006 | انڈیا پرمود مہاجن انتقال کر گئے03 May, 2006 | انڈیا پرمود نازک حالت میں،پروین ریمانڈ پر23 April, 2006 | انڈیا پرمود مہاجن ہسپتال میں22 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||