مہاجن کے بیٹے کی حالت نازک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے آنجہانی رہنما پرمود مہاجن کے بیٹے راہول مہاجن کو انتہائی بیمار حالت میں جمعرات دلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ راہول مہاجن کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ان کے ساتھ ان کے والد کے مشیر وویک موئترا کو بھی ہسپتال لایا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا ہے۔ دلی کے اپولو ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں کو کل رات تقریباً تین بجے ہسپتال لایا گیا تھا۔ راہول کو انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ تاہم دونوں کے اچانک بیمار پڑنے کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں بتایاگیا ہے۔ ڈاکٹروں نے صرف اتنا بتایا ہے کہ ابتدائی تشخیص سے یہ زہر خوردنی کا معاملہ لگتا ہے ، لیکن یہ معلوم نہیں کہ زہر خوردنی کس چیز سے ہوئی۔ سینیئر پولیس اہلکار منیش اگروال نے بتایا ہے کہ ڈاکٹروں کو راہول اور وویک کے پاس سے سفید پاؤڈر جیسا کوئی سفوف ملا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وویک کی موت اور مہاجن کی نازک حالت کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حالت زہر خوردنی سے ہوئی ہے۔ خون کی جانچ اور ایکسرے کی رپورٹ کا تجزیہ کیا جا ربا ہے۔ادھر وویک کا پوسٹ مارٹم شروع ہو گیا ہے ۔ راہول کے والد پرمود مہاجن بی جے پی کے ایک اعلیٰ رہنما تھے اور انہیں اپریل کے اواخر میں مینہ طور پر ان کے ایک بھائی نےگولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ گزشتہ دنوں راہول مہاجن نے بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شرکت کی تھی اور یہ خبریں آرہی تھیں کہ وہ باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں اور انہیں اپنے والد کی جگہ راجبیہ سبھا کا ممبر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ چند دنوں قبل راہول مہاجن نے اپنے فیملی ڈاکٹر کو بتایا تھا کہ وہ اپنےوالد کی موت کے بعد بہت تنہا محسوس کر رہے ہیں اور ڈپریشن میں رہتے ہیں۔ وہ کچھ دوائیا ں بھی کھا رہے تھے۔ | اسی بارے میں پرمود مہاجن انتقال کر گئے03 May, 2006 | انڈیا پرمود نازک حالت میں،پروین ریمانڈ پر23 April, 2006 | انڈیا پرمود مہاجن ہسپتال میں22 April, 2006 | انڈیا پرمود مہاجن کی حالت نازک 22 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||