راہول مہاجن کی بیماری کا معمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے آنجہانی رہنما پرمود مہاجن کے بیٹے راہول مہاجن کی حالت اب قدرے بہتر ہے تاہم ان کے خون کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب راہول کا بلڈ پریشر نارمل ہے اور انہیں اب مصنوعی نظام تنفس کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم انہیں اب بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے اور اگلے بہتّرگھنٹوں تک ان کی صحت کی سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔ ابتدائی خبروں میں کہا گیا تھا کہ راہول کی بیماری کی وجہ زیادہ مقدار میں نشیلی ادویات کا استعمال ہوسکتا ہے لیکن دلی کے اپالو ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ان کے خون میں کوکین یا دوسری نشیلی ادویات کا سراغ نہیں ملا ہے۔ ڈاکٹروں کے انکشاف کے بعد معاملہ اور پیچیدہ ہوگیا ہے کہ آخر ان کی شدید بیماری اورآنجہانی پرمود مہاجن سیکریٹری موئترا کی موت کا سبب کیا ہے۔ راہول مہاجن کی بیماری اور ان کے ایک ساتھی کی پراسرار موت کے سلسلے میں پولیس نے کشمیر سے ایک نوجوان کو حراست میں بھی لیا ہے۔ اکیس سالہ ساحل زارو نے سری نگر میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا ہے۔ زارو ان تین لڑکوں کے ساتھ تھے جن پرمہاجن کو نشیلی ادیات فراہم کرنے کا الزام ہے۔ تاہم انہوں نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ادھر دلی پولیس ساحل کے والد غلام محمد سے اس سلسلے میں پوچھ گجھ کر رہی ہے ۔ مزید تفتیش کے سلسلے میں چھاپے مارنے کے غرض سے پولیس کی ایک ٹیم ممبئی بھی بھیجی گئی ہے۔ راہول کے پھوپھا اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلی گوپی ناتھ منڈے نے اس پورے معاملے میں سازش کا الزام عاد کیا ہے۔ انہوں نے شک ظاہر کیا ہے کہ شاید راہول کو زہر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ گزشتہ روز راہول مہاجن کو انتہائی بیمار حالت میں دلّی کے اپالو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کے والد کے سیکریٹری ویویک موئترا کو بھی ان کے ساتھ ہی ہسپتال لے جایا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق حادثے والی رات راہول سے ملنے جو تین نوجوان آئے تھے انہوں نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل سے بات چیت کے دوران ان نوجوانوں نے دعوٰی کیا ہے کہ راہول اور ان کے ساتھی ویویک نے رات میں نشہ آور اشیاء کا استعمال کیا تھا۔ پولیس اس سفید پاؤڈر کے حوالے سے بھی تفتیش کر رہی ہے جو راہول اور ویویک کے پاس سے بر آمد ہوا تھا۔ راہول کے والد پرمود مہاجن بی جے پی کے ایک اعلیٰ رہنما تھے اور انہیں اپریل کے اواخر میں مبینہ طور پر ان کے بھائی نےگولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ گزشتہ دنوں راہول مہاجن نے بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شرکت کی تھی اور اطلاعات تھیں کہ وہ باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں اور انہیں اپنے والد کی جگہ راجیہ سبھا کا ممبر بھی بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ چند دن قبل راہول مہاجن نے اپنے فیملی ڈاکٹر کو بتایا تھا کہ وہ اپنے والد کی موت کے بعد بہت تنہا محسوس کر رہے ہیں اور انہیں’ڈپریشن‘ بھی محسوس ہوتا ہے اور وہ اس سلسلے میں کچھ دوائیا ں بھی کھا رہے تھے۔ | اسی بارے میں مہاجن کے بیٹے کی حالت نازک02 June, 2006 | انڈیا پرمود مہاجن انتقال کر گئے03 May, 2006 | انڈیا پرمود نازک حالت میں،پروین ریمانڈ پر23 April, 2006 | انڈیا پرمود مہاجن ہسپتال میں22 April, 2006 | انڈیا پرمود مہاجن کی حالت نازک 22 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||