کشمیر، اعتماد سازی کے اقدامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب تجارتی روابط بحال کرنے اور مزید بس سروس شروع کرنے جیسے مسائل پر بات چیت کے لیئے پاکستان کے اعلی اہلکاروں پر مشتمل ایک سات رکنی وفد دلی میں ہے۔ دو روزہ مذاکرات میں مظفرآباد اور سری نگر کے راستے تجارت شروع کرنے کے لیئے ٹرک چلانے اور پونچھ اور راؤلا کوٹ کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت ہو رہی ہے۔ بات چیت میں کنٹرول لائن پر کشمیر کےدونوں جانب کے لوگوں کی ملاقات کے لیئے دو ’میٹنگ پوائنٹ‘ کے قیام پر بھی غور ہورہا ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت دفتر خارجہ میں جنوبی ایشا کے ڈائریکٹر جنرل، ابن عباس کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ وزارت تجارت، دفاع اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کئی اعلی اہل کار بھی ہیں۔ ہندوستان کی طرف سے بات چیت میں جوائنٹ سیکریٹری دلیپ سنہا بھارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان بس سروس کے آغاز کے بعد کشمیر کے حوالے سے اعتماد سازی کے لیئے ان اقدامات کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ دونوں جانب سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ان تجاویز پر عمل آئندہ جون سے شروع ہوجائےگا۔ سری نگر اور مظفرآباد سے تجارتی روابط کی بحالی کا مطالبہ دونوں جانب سے کیا جا رہا تھا۔ ادھر بدھ کو ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کشمیر کے علیحدگی پسند حریت رہنماؤں سے نئی دلی میں ملاقات کر رہے ہیں۔ حریت رہنماؤں نے کشمیر مسئلے پر حکومت کی جانب سے طلب کی گئی گول میز کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس ماہ کے اواخر میں ہونے والی دوسری گول میز کانفرنس میں یہ رہنما کانفرنس میں شریک ہوں۔ وزیراعظم نے حریت کانفرنس کو دلی آنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ انہیں کانفرنس میں شرکت کے لیے قائل کر سکیں۔ | اسی بارے میں ایل او سی پر نئی چوکیاں نہیں27 April, 2006 | پاکستان جوہری مذاکرات: مثبت ماحول 25 April, 2006 | پاکستان انڈو پاک تجارت: چاولوں پر اتفاق28 March, 2006 | پاکستان انڈیا پاکستان بات سفارشات پر ختم22 March, 2006 | پاکستان ’سیلف گورننس پرمزید بات ہو گی‘26 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||