BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 April, 2006, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: موسم کا حال’موسم‘ پر

سیلاب
انڈیا میں موسم سے متعلقہ پیشین گوئیاں زیادہ صحیح ثابت نہیں ہوتیں
انڈیا میں حکومت نے موسم کی پیشین گوئی کے لیے ایک مخصوص ٹی وی چینل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے موسم کی صحیح پیشگی اطلاع سے زراعت، شہری ہوا بازی، سیاحت اور توانائی کے شعبے کو مزید بہتر بنایا جا ئےگا۔ اس چینل کا نام ’موسم‘ ہوگا اور اور اس کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہیں گی۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے انڈین وزیر کپل سّبل نے بی بی سی کو بتایا کہ دوہزار دس میں کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد سے پہلے مجوزہ چینل پوری طرح سے کام کرنا شروع کر دےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ کامن ویلتھ گیمز میں جگہوں کی مناسبت سے موسم کی پیشینگوئی بھی اہم کردار ادا کرے گی اسی لیے ہم نے سوچا کہ ایک ایسا چینل ہو جو چوبیس گھنٹے موسم کی اطلاعات فراہم کرتا رہے‘۔

مسٹر سبّل کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں موسم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے لیکن چونکہ ملک کی ساٹھ فیصد آبادی دیہاتوں میں بستی ہے جس کی روزی روٹی زراعت ہے اس لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

گزشتہ برس انڈیا میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی تھی

انہوں نے کہا کہ’شعبۂ زراعت میں موسم کی بڑی اہمیت ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کسانوں کی بھلائی کے لیئےموسم کی پیشگي اطلاعات فراہم کرے اور اگر ہم ایسا نہیں کرسکتے تو پھر بھارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آگے کیسے ہے؟‘۔

مجوزہ چینل ملک کےگوشے گوشے میں ضلعی سطح پر موسم کی اطلاع فراہم کرےگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ابتداء میں یہ چینل حکومت اور ایک نجی کمپنی کی مشترکہ کوششوں سے شروع کیا جائےگا اور بعد میں اسے نجی کمنپی کے سپرد کر دیا جائےگا جو آزادانہ طور پر یہ سروس فراہم کرتی رہےگی۔

مسٹر سبل نے کہا کہ’ہم نے مختلف پرائیوٹ ٹی وی چینلوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے پراجیکٹ اس ماہ کی تیس تاریخ تک حکومت کو سونپ دیں تاکہ اس پر جلدی ہی کام شروع ہوسکے‘۔

یہ چینل ملک کےمحکمہ موسمیات کے ساتھ مل کر کام کرےگا جسے پورے ملک کے موسم کی معلومات کے لیے اپنے نیٹ ورک کو زبردست طریقے سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کی اعلٰی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے ابھی سے کوششیں شروع ہوگئی ہیں اور چینل کی شروعات سے پہلے محکمہ موسمیات اس پوزیشن میں ہوگا کہ اس کے پاس ملک کے گوشے گوشے کی معلومات ہوں گی۔

مسٹر سبل کا کہنا ہے کہ چینل پر درجہ حرارت کے علاوہ اس بات کی بھی پیشین گوئی کی جا سکے گی کہ مقررہ وقت اور خاص علاقوں میں ہوا میں نمی کا تناسب، بارش، ہوا کی رفتار اور بادلوں کی نقل وحرکت کیسی رہےگی۔

آج کل بھی خبروں کے اواخر میں موسم کی خبر شامل ہوتی ہے لیکن صحیح تکنیک و ٹیکنالوجی کی کمی اور موسمیات پر زیادہ زور نہ ہونے کے سبب یہ خبریں عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں اور اکثر غلط ہوتی ہیں۔

اس کے برعکس یورپ، امریکہ اور ایشیا کے دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں ایک ایک گھنٹے کے موسم کی درستگی کے ساتھ پیش گوئی کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں
بسیں بہہ گئیں، 100ہلاک
25 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد