بسیں بہہ گئیں، 100ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ہندوستان میں دو بسوں کے پانی میں بہہ جانے سے کم سے کم سو افراد کے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اب تک تیس سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے مزید ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔اس حادثے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دونوں حادثے ریاست تامل ناڈو میں ہوئے ہیں جہاں مستقل بارش سے ہر طرف سیلاب کی صورت حال ہے۔ سو سے زائد مسافروں سے بھری ایک سرکاری بس مدروائی کی طرف جاری تھی کہ ندی میں جا گری۔ بہت سے لوگ تیر کر باہر نکلے ہیں اور کئی ایک مارے گئے ہیں۔ تامل ناڈو میں ہی تھنجور ضلعے میں ایک دوسری بس پانی میں بہہ گئی ہے۔ کام کا کہنا ہے کہ دوسرے واقعے میں تیس لاشیں نکالی گئی ہیں اور بہت سے افراد اب بھی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جائے حادثے پر حکام پہنچ گئے ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ایک بس کو پانی سے نکالا جاچکا ہے جبکہ دوسری بس اب بھی پھنسی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بس ایک ایسے پل سے گزر رہی تھی جسے وقتی طور پر تعمیر کیا گيا تھا۔ خلیج بنگال میں ہوا میں کمی کے دباؤ کے سبب تامل ناڈو کے بیشتر علاقوں میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ ان بارشوں سے پورا جنوبی ہندوستان متاثر ہوا ہے۔ بنگلور اور حیدرآباد کے علاقوں میں اب زرا راحت ہے۔ لیکن تامل ناڈو میں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس ریاست کی تقریباً سبھی دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کی صورت حال ہے۔ سیلاب کے سبب کئی ریل گاڑیوں اور بسوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ بارش کے سبب تقریباً پوری فصل تباہ ہوچکی ہے اور پانی بھرنے کے سبب لاکھوں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ محکمہ وموسمیات کا کہنا ہے کہ خلیج بنگال میں اب بھی ہوا کا دباؤ کم ہے اور جب تک یہ صورت حال برقرار ہے بارش میں کمی آثار نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں آندھرا پردیش میں حادثہ: 15 ہلاک10 August, 2005 | انڈیا ممبئی پھر بارش میں ڈوُب گیا10 September, 2005 | انڈیا خلیج بنگال:طوفان سے درجنوں ہلاک 21 September, 2005 | انڈیا 900 افراد کی ہلاکت کاخدشہ29 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||