BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 March, 2006, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس فائرنگ: ممبئی میں 3 ہلاک

ہولی
لگوں کا کہنا ہے کہ پولیس رات ہی کو تصادم پر قابو پانے کی کوشش کرتی تو حالات اتنے خراب نہیں ہوتے
مہاراشٹر کے شہر نئی ممبئی کے گھنسولی علاقہ میں ہولی پر تصادم میں تین افراد ہلاک ہو گئے اور حالات پر قابو پانے کے لیے کرفیو لگا دیا گیا۔

ڈپٹی پولیس کمشنر امر جادھو اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر نند کمار چوگلے بھی پتھراؤ کے دوران بری طرح زخمی ہو گئے۔ ان کے علاوہ دو پولیس کانسٹیبلوں سمیت پندرہ افراد کو طبی امداد کیلیے ہسپتال میں داخل کیاگیا ہے۔

نئی ممبئی مضافاتی علاقہ ہے یہاں کے گھنسولی گاؤں میں زیادہ تر مزدور رہتے ہیں جنہیں ماتھاڈی کامگار محنت کش کہا جاتا ہے اور ان کا تعلق مہاراشٹرسے ہوتا ہے۔

گھنسالی کے مقامی لوگوں اور ماتھاڈی طبقہ کے مابین گزشتہ رات سے جھڑپیں جاری تھیں لیکن ماحول اس وقت کشیدہ ہو گیا جب دونوں گروپ کے لوگوں نے سڑکوں پر آ کر پتھراؤ شروع کردیا، وہاں کھڑی کئی گاڑیوں کو آگ لگادی اور کئی دکانوں کو جلا ڈالا۔

ان کے اس پتھراؤ کے نتیجے میں ایک شخص کی موت واقع ہو گئی۔ خوفزدہ لوگوں نے جلدی جلدی دکانیں بند کرنی شروع کر دیں۔ جب پولیس وہاں پہنچی تو لوگوں نے ان پر بھی پتھراؤ کرنا شروع کیا جس میں پولیس افران بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس اور پھر ہوائی فائرنگ کی لیکن بھیڑ ختم نہ نہیں ہوئی تو پولیس نے فائرنگ شروع کر دی جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔

پولیس نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور صحافیوں کو بھی علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کو ہولی کے دوران ایک گروپ کے لڑکوں نے دوسرے گروپ کی لڑکی پر رنگ پھینکا اور اسے چھیڑنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں اس وقت تو صرف لفظی تکرار ہوئی لیکن رات میں مارپیٹ کے واقعات شروع ہو گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے رات ہی کو تصادم روکنے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے ہنگامہ بڑھ گیا اور صبح لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

ہنگامہ ایک لڑکی پر رنگ پھینکنے سے شروع ہوا

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان گروپوں کی پہلے بھی کئی جھڑپیں ہو چکی ہیں لیکن رات کو نشے نے انہیں شدید بنا دیا ورنہ بات صرف معمولی تکرار یا جھڑپ تک ہی رہتی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد