BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 February, 2006, 19:08 GMT 00:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باغی حملے میں نو فوجی ہلاک
ماؤ باغی
حکام کا کہنا ہے کہ ماؤ باغیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے
بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع دنتی وارا میں ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے کم از کم نو فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فوجی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ یہ تمام فوجی گاڑی پر سوار تھے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ بارودی سرنگ کس نے نصب کی تھی تاہم پولیس نے اس کارروائی کا الزام ماؤ باغیوں پر عائد کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ماؤ باغیوں نے علاقے میں سکیورٹی افوج پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔

ایک علیحدہ واقعہ میں باغیوں کے حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔ باغیوں نے یہ حملہ شمالی ضلع جاش پور میں واقع ایک پولیس چوکی پر کیا تھا۔

گزشتہ برس دلی میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا تھا کہ چھتیس گڑھ کے ضلع دنتے والا میں پچھلے چند ماہ کے دوران چھیانوے افراد ’غائب‘ ہو چکے ہیں۔

ان تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اپنی حالیہ کوشش کے دوران بہت سی ایسی ہلاکتوں کا سراغ لگایا ہے جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

ان تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت اپنی ’سلوا جدوم‘ نامی امن تحریک کی کوشش کی آڑ میں یہ سب کچھ کر رہی ہے جس کے نتیجے میں لوگ غائب ہو رہے ہیں۔

تنظیم کے ایک رکن ہریش شاوان کا کہنا تھا کہ حکومت ماؤ نواز باغیوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے سلوا جدوم کا استعمال کر رہی ہے۔ اس عمل میں عام شہریوں کو مارا اور ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم ڈی ایس رے کے مطابق’سلوا جدوم ایک انقلابی عوامی تحریک ہے جسے قبائلی لوگوں نے منظم کیا ہے تاکہ ماؤ نواز باغیوں کے تشدد کا مقابلہ کیا جا سکے‘۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ اس تحریک کے کارکنوں کو حکومت اسلحہ فراہم کر رہی ہے اور انہیں مشتبہ لوگوں کو مارنے اور گرفتار کرنے کے لیے فوج کی مدد حاصل ہے۔

سوال کی رشوت
ٹی وی نے اراکین اسمبلی کا بھانڈا پھوڑ دیا
بہار کی گڑیا
یونیسیف کی دعوت پر گڑیا لندن جارہی ہے
اڈوانیدلی ڈائری
اڈوانی کی مشکل اور امیتابھ کا سوپ اوپرا
بہار کی رابڑی دیوی
ہندو انتہا پسند سیاست دانوں کی رول ماڈل؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد