ہڑتال تیسرے روز بھی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے ہوائی اڈوں کے ملازمین کی ہڑتال تیسرے روز بھی جاری رہی اور بائيں بازو کی جماعتوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری پرکاش کارت نے کہا کہ بائيں بازو کی جماعتوں نے وزیر اعظم سے ائیر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے ملازمین سے ملاقات کی درخواست کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’دِلی اور ممبئی کے ہوائی اڈوں کی نجکاری کے خلاف ہوائی اڈوں کے ملازمین کی ہڑتال کی ہم پوری طرح سے حمایت کر رہے ہيں اور ان دونوں ہوائی اڈوں کو جدید بنانے کی ذمہ داری ائر پورٹ اتھارٹی آف انڈیا کو ہی ملنی چاہیے‘۔ مسٹر کارت نے مزید کہا کہ ’ہم نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے درخواست کی ہے کہ وہ ائرپورٹ اتھارٹی کے ملازمین کے ساتھ ایک میٹنگ بلائيں اور اس معاملے کا جلد سے جلد کوئی حل نکالنے کی کوشش کریں‘۔
دوسری جانب پورے ملک میں تیسرے روز بھی ہوائی اڈوں کی ہڑتال جاری ہے۔ دلی ممبئی اور کولکتا کے ہوائی اڈوں پر ہڑتال کسی حد تک موثر رہی۔ ہڑتال سے پروازوں کی آمد و رفت پر تو کچھ خاص اثر نہیں پڑا لیکن ہوائی اڈوں کی صفائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہوائی اڈوں پر چاروں طرف کوڑا بکھرا پڑا ہے اور لیٹرین گندے پڑے ہيں۔ ہندوستان میں دو سب سے بڑے ہوائي اڈوں کی جدیدکاری کا کام دو نجی کمپنیوں کو دینے کے حکومت کے فیصلے کے بعد ہوائی اڈوں کے تقریباً بیس ہزار ملازمین نے بدھ کے روز ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا۔ شہری ہوا بازی کی وزارت کے فیصلے کے مطابق دِلّی کے ہوائی اڈے کا کام ہندوستان اور ایک جرمن کمپنی کے ایک کنسورشیم جی ایم آر - فراپورٹ کرے گا اور ممبئی ہوائی اڈے کا کام جنوبی افریقہ اور ہندوستان کے کنسورشیم جی وی کے ائر پورٹس کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں بھارت: ہڑتال سے ٹویوٹا کا پلانٹ بند09 January, 2006 | انڈیا ’جیل جاؤ گئے یا ہڑتال ختم کرو گے‘21 January, 2006 | انڈیا بیس ہزار بھارتی ملازمین کی ہڑتال 01 February, 2006 | انڈیا ہڑتال دوسرے دن بھی جاری02 February, 2006 | انڈیا اقتصادی اصلاحات: بھارت میں ہڑتال29 September, 2005 | انڈیا بھارت میں ہڑتال کی دھمکی 28 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||