انڈیا: میگھالے میں کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے شمال مشرقی ریاست میگھالے میں پولیس کے ہاتھوں بارہ طالبعلموں کی ہلاکت کے بعد فوج کی مدد سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق طالبعلموں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے بعد پولیس نے ان پر فائر کھول دیا جبکہ احتجاج کرنے والوں کے مطابق پولیس کو اُکسایا نہیں گیا۔ ریاست کے وزیِر داخلہ نے حزبِ اختلاف کے کہنے پر استعٰفی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ گارو قبیلہ کے طالبعلم ممکنہ تعلیمی اصلاحات کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ فوجی دستے جمعہ کو بلائے جانے کے بعد گارو پہاڑی علاقہ میں امن و امان بحال کرنے کے لیے گشت کررہے ہیں۔ استعٰفی دینے سے انکار کرنے کے بعد ریاست کے وزیِر داخلہ، موکُل سنگما، نے کہا کے یہ ایک نہایت افسوسناک حادثہ ہے لیکن اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ گارو پہاڑی علاقہ کے سب سے مشہور سیاست دان، انڈیا کے سابق سپیکر پورنو سنگما نے کہا ہے کہ ریاست کی پوری کانگریس حکومت کو استعٰفی دے دینا چاہیے۔ پورنو سنگما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن مجمع پر بندوقوں سے گولیاں چلانا بہت ظالمانہ حرکت تھی۔ انہوں نے اپنی پارلیمانی نشست سے استعٰفی دینے کی دھمکی دی ہے۔ گارو پہاڑی علاقہ کے ایک پولیس آفسر نے بی بی سی کو بتایا کہ گارو سٹوڈنٹ یونین کو مجمع اکھٹا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور اس کے باوجود کئی سو لوگ احتجاج کے لیے اکھٹے ہوگئے۔ گارو سٹوڈنٹ یونین نے ریاستی حکومت کے ممکنہ تعلیمی اصلاحات کے خلاف اس مہینہ کے آغاذ میں احتجاج کا یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے گارو سٹوڈنٹ یونین سے کہا ہے کے وہ تعلیمی اصلاحات پر مذاکرات صرف احتجاج کا یہ سلسلہ بند ہونے کے بعد کرے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||