بنا آستین لباس اور موبائل پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ہندوستان میں ایک یونیورسٹی نے طالبات کے لیے بغیر آستین کے لباس پہننےاور کیمپس میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ طلباء کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ روایتی قسم کے لباس اختیار کریں۔ جنوبی ریاست تامل ناڈو میں انّا ملئی یونیورسٹی کےوائس چانسلر نے کہا ہے کہ موبائل فون کے استعمال سے درس و تدریس کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔ وائس چانسلر ڈی وشا ناتھن نے کہا کہ ’ بغیر آستین کے لباسوں سے طلباء کے ذہن تعلیم کی طرف مائل ہونے کے بجائے دوسری جانب راغب ہوتے ہیں‘۔ طالبات کو جینز، ٹی شرٹ ، اسکرٹز اور دیگر تنگ قسم کےلباس پہننے سے بھی منع کیا گيا ہے اور انہیں روایتی قسم کے ملبوسات اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ طلباء کے بعض گروپوں نے موبائل فون پر پابندی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ڈریس کوڈ پر سخت نارضگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ لباسوں پر پابندی کا فیصلہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے غیر ضروری مداخلت ہے‘۔ وائس چانسلر نے ریاست کے سوا دو سو انجینئرنگ کالجوں کو نئی ہدایات بھیج دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’اگر کسی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تو اسے پہلے خبردار کیا جائے گا، پھر بھی پابندی نہ کرنے پر ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی‘۔ ریاست کے سوا دوسو کالجوں کو فرمان بھیجا گیا ہے کہ انتظامیہ نئے اخلاقی ضوابط پر سختی سے عمل کرے۔ ریاست کے کالجوں میں کیمرے والے موبائل فونوں پر پہلے ہی سے پابندی عائد ہے۔ گزشتہ برس دلی کے ایک اسکول میں کیمرے والے فون سے فحش فلم کی تصویر کشی کے بعد ریاست نے ایسے موبائل فونز پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||