موبائل پر طلبا کی فحش فِلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے دارالحکومت دِلّی میں سکول کے ایک طالب علم نے کیمرے والے موبائل فون سے اپنی ایک ساتھی طالبہ کی عریاں فِلم بنا کر اپنے دوستوں کو بھیج دی۔ اس خبر کے بعد والدین اور اساتذہ میں بحث چھڑ گئی ہے کہ طالب علموں کو کیمرے والے موبائل فون اور ایس ایم ایس پیغامات کے غلط استعمال سے کیسے روکا جائے۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ طالب علم نے اپنے کیمرے والے موبائل فون سے اپنی ایک کلاس میٹ کے ساتھ کلاس روم ہی میں جنسی عمل کرتے ہوئے فِلم بنا لی۔ اس لڑکے نے اپنے موبائل سے یہ کلپ اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھیج دیں جنہوں نے تصویریں دیکھ کر لڑکی کو پہچان لیا۔ اسکول کی انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے اس پورے معاملے میں ملوث لڑکے، لڑکی اور دیگر آٹھ طلبا کو سکول سے خارج کردیا ہے اور سکول کے اندر موبائیل فون لانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ سکول انتظامیہ نے اس واقعے کے بعد طلبہ، انکے ولدین اور اساتذہ کے لیے پندرہ نکاتی ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے۔ اس واقعے کے متعلق متعلقہ سکول کی پرنسپل اور دیگر افراد نے بات کرنے سے گریز کیا ہے لیکن دلی کے ایک اور مشہور اسکول ’اسپرنگ ڈیل کی پرنسپل‘ محترمہ بوس کا کہنا ہے کہ اسکول بھی سماج کا ایک حصہ ہیں اور جس طرح معاشرے میں مغربی تہذیب تیزی سے پھیل رہی ہے اس سے بچے بھی متائثر ہو رہے ہیں۔ انکے مطابق اساتذہ کے ساتھ والدین کی بھی ذمہ داری ہے کو وہ ایک حد مقرر کریں کہ ان کے بچے کس حد تک جاسکتے ہیں۔ ’ٹی وی اور نیٹ تک سب کی پہنچ ہے اور اس پر فحاشی کی بھرمار ہے۔ بچے وہیں سے اس طرح کی تحریک پاتے ہیں‘۔ محترمہ بوس کے مطابق اس طرح کے واقعات کسی بھی اسکول میں ہوسکتے ہیں لیکن امکان وہاں زیادہ ہیں جہاں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں طلبہ کی نگرانی صحیح طریقے سے نہیں ہو پاتی ہے۔ انکے مطابق بعض اسکول ایک طرح کی فیکٹری بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد دلی کے تقریبا سبھی اسکول اپنی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہے ہیں اور وہ خود اپنے اسکول کی میٹینگ کرنے والی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||