پاکستانیوں کے لیے زیارتیں اورفیسٹیول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے پاکستانی شہریوں کے لیے مزید زیارت گاہیں کھولنے کی تجویز پیش کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تہذیبی و ثقافتی پروگرامز کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے ایک پاکستانی فلم فیسٹیول کے انعقاد کی بھی بات کی ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں خارجی امور کے وزیر مملکت ای احمد نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے ثقافتی سیکریٹریز نےگزشتہ ماہ بات چیت میں ان زیارتوں کی تعداد بڑھانے پراتفاق کیا تھا جہاں پاکستانی جانا چاہتے ہیں۔اس بات پر بھی اتفاق ہوا تھا کہ زائرین کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ موجودہ صورت میں پاکستانی شہریوں کو صرف پانچ درگاہوں پر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ جن میں اجمیر کی خواجہ معین الدین چشتی، سرہند میں حضرت مجدد الف ثانی، کلیر کےحضرت خواجہ علاؤالدین علی احمد صابری، دلی میں حضرت امیر خسرو اور حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہیں شامل ہیں۔ مسٹراحمد نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان عوامی رابطے بحال کرنےکے لیے ان مذکورہ جگہوں کے علاوہ بھی زائرین کواجازت دی جارہی ہے جنکے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایک پاکستانی فلم فیسٹول کے انعقاد کی تجویز ہے۔ اس پر فریقین صلاح و مشورے کے بعد جلد ہی فیصلہ کرینگے۔ دونوں ملک مذہبی و ثقافتی روابط بڑھا نے کے حق میں ہیں۔ فریقین نے بعض ایسےگرودواروں اور اور مندروں کی بھی نشاندہی کی تھی جہاں زائرین کی بڑی تعداد زیارت کے لیے جاتی ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||