BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 July, 2005, 03:53 GMT 08:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغیر مقدمے کے 50 سال جیل میں
 جیل
لالنگ کو گزشتہ ہفتے ایک روپے کے ذاتی مچلکے کے عوض رہا کیا گیا
بھارت کی ریاست آسام میں ایک شخص کو بغیر مقدمے کے نصف صدی جیل میں گزارنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

ستتر سالہ مچنگ لالنگ کو گواہاٹی سے انیس سو اکیاون میں ’شدید ضربیں‘ لگانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس جرم کی سزا دس سال ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لالنگ کے خلاف ثبوت نہیں ملے تھے جس کے بعد انہیں ذہنی امراض کے ایک ادارے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

انیس سو سڑسٹھ میں اس ادارے نے لالنگ کو صحت مند قرار دے کر ان کی رہائی کی سفارش کی تھی لیکن پولیس نے انہیں ایک اور جیل میں منتقل کر دیا۔

حیران کن طور پر اس معاملے میں لالنگ کے گھر والوں نے بھی انہیں بھلا دیا۔

گزشتہ سال مقامی سطح پر کام کرنے والے انسانی حقوق کے ایک اہلکار نے ان کے معاملے کو انسانی حقوق کے قومی کمشن کے سامنے رکھا جس نے فوری طور پر لالنگ کی رہائی کی کوششیں شروع کر دیں۔

لالنگ کو گزشتہ ہفتے ایک روپے کے ذاتی مچلکے کے عوض رہا کیا گیا۔

رہائی کے بعد لالنگ کو ان کے گاؤں لے جایا گیا جہاں ایک شخص بینو لالنگ نے انہیں پہچان لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے لالنگ کو گاؤں کے مکھیا کے حوالے کر دیا ہے کیونکہ انہیں ان کا کوئی رشتہ دار یا عزیز نہیں ملا۔

پولیس نے بتایا کہ لالنگ کو اپنا ماضی تقریباً بھول چکا ہے اور انہیں اپنے گاؤں کی کوئی بات یاد نہیں۔

پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مچنگ لالنگ نے اپنے گاؤں پہنچ کر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد