BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 02:40 GMT 07:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیمپ اب بھی قائم ہیں: نٹور سنگھ
News image
وزیر خارجہ نٹور سنگھ لندن کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔
بھارت کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے کیمپ اب تک قائم ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان بحال ہوتے ہوئے تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بات ہندی سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ شدت پسندوں کے تربیتی کیمپوں سے متعلق اپنے موقف کے حق میں تصاویر پیش کر سکتے ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ شدت پسندوں کے تربیتی کیمپوں سے متعلق یہ صرف ہماری رائے نہیں ہے بلکہ آس پاس کے ملکوں کی بھی یہی رائے ہے۔ اُن کا اشارہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے بیان کی طرف تھا۔

نٹور سنگھ نے پچھلے دنوں وسطی ایشیاء کے دورے کے دوران پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیر سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم سے کہہ دیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو شدت پسندوں کے کیمپوں سے متعلق ثبوت انہیں فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر نٹور سنگھ نے کہا کہ کشمیر سے متعلق ہر ہفتے پاکستان سے نیا بیان داغا جاتا ہے۔

’کبھی وزیر خارجہ اس پر بیان جاری کرتے ہیں تو کبھی وزیر اعظم اور کبھی کبھی جنرل صاحب خود اس پر بیان دیتے ہیں۔ ہم روز روز ان بیانوں کا جواب نہیں دے سکتے لیکن پارلیمنٹ میں ضرور ان بیانوں پر بات ہوتی ہے۔‘

’جہاں تک حریت کانفرنس کے رہنماؤں کا تعلق ہے انہوں نے پاکستان جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور ہم نے انہیں اجازت دے دی۔ اب کہتے ہیں کہ نئے انتخابات کرائیں۔ بھئی انتخابات تو پہلے بھی ہوتے ہیں ہیں۔ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے ہیں۔‘

پاکستان کی جانب سے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے ایک سال کی مہلت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر منموہن سنگھ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ ہر معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن پاکستان کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جو مسئلہ اٹھاون سال سے حل طلب ہے وہ راتوں رات کیسے حل ہو سکتا ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے مابین امن مذاکرات کے سلسلہ کے امکانات کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر لندن کی طرح کا کوئی شدت پسند حملہ نہ ہوا تو یہ سلسلہ ضرور آگے بڑھے گا۔

ادھر پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے لگائے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ایسے بیان تو اس وقت آتے تھے جب دونوں ملکوں کے مابین بات چیت نہیں ہو رہی تھی۔

’اب جب امن مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے تو ایسی بیانات کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد