دِلی دھماکے، بمباروں کی تلاش جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی دارالحکومت دِلی کے دو سنیما گھروں میں دو روز قبل ہونے والے بم دھماکوں کے بعد شہر میں پولیس بدستور چوکنا ہے۔ ان سنیما گھروں میں دکھائی جانے والی فلم سے بعض سکھ عناصر کی دل آزاری ہوئی تھی۔ سکھوں کی ایک بڑی تنظیم کا کہنا تھا کہ فلم سے سکھوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تاہم اس نے بم دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ اتوار کو دو سنیما گھوں میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 49 زخمی ہو گئے تھے جن میں بعض کی حالت نازک بتائی گئی تھی۔ تاہم سنیما گھروں پر کیے گئے بم حملوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ حکام نے بھی اس واقعہ کے ممکنہ ذمہ دار افراد کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ پولیس حملہ آوروں کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھی کہ پیر کو اور اور دھماکہ کیا گیا۔ تاہم پولیس کے مطابق پیر کے واقعہ کا سنیما گھروں کے ددھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق پیر کے روز دھماکہ اس وقت ہوا جب مشرقی دلی میں ایک شخص نے ریل کی پٹڑی کے قریب رکھے بیگ کو کھولنےکی کوشش کی۔ اس دھماکے کے سبب بیگ کھولنے والے شخص کے چہرے اور بازو پر چوٹیں آئیں اور اسے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں کے بعد دلی میں سکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا تھا اور شہر کے سینما گھروں کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ پہلا دھماکہ دلی کے علاقے کرول باغ میں واقع لبرٹی سنیما میں شام گئے ہوا اس وقت سنیما میں ایوننگ شو چل رہا تھا۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد پٹیل نگر نامی علاقے میں واقع ستیم سنیما میں ہوا۔ ان دونوں سنیما گھروں میں متنازعہ فلم ’جو بولے سو نہال‘ کی نمائش جاری ہے۔ اس فلم پر سکھ مذہبی حلقوں کو یہ اعتراض ہے کہ اس کا نام سکھوں کے ایک مذہبی نعرے پر رکھا گیا ہے جو ان کے مطابق ایک قابلِ اعتراض بات ہے۔ سکھ مذہبی حلقے اس سلسلے میں احتجاجی مظاہرے بھی کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پنجاب میں فلم کی نمائش پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||