ایشیائی ہیرو ، بدعنوانی کا ملزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں غبن اور بدعنوانی کی خبریں لوگوں کو عموماً متحیر نہیں کرتیں لیکن انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس سے سبکدوش ہونے والے ڈاکٹر گوتم گوسوامی کے مبینہ طور پر دس کروڑ روپے کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کا معاملہ سبھی کی توجہ کا مرکز ہے۔ گزشتہ برس ’ٹائم‘ میگزین نے گوتم گواسوامی کو بیس ایشیائی ہیروز میں شمار کیا تھا۔ ریاست کے گورنر سردار بوٹا سنگھ نے اس غبن کی تفتیش کے لیے ضرورت پڑنے پر سی بی آئي یعنی مرکزی تفتیشی بیورو سے مدد لینے کا عندیہ دیا ہے۔ فی الحال ویجیلنس کے ڈی جی آشیش رنجن سنہا اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں ڈاکٹر گوسوامی کے ساتھ ایک اور شخص سنتوش کمار جھا کے نام کے کافی تذکرے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ساری رقم انہیں کے نام جاری کی گئی ہے۔ سنتوش کمار جھا کا تعلق لوک جن شکتی پارٹی سے ہے جنہیں اس انکشاف کے بعد پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کے علاوہ اس معاملے میں تقریباً آدھا درجن افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ غبن کا یہ معاملہ ان پیسوں کے حوالے سے ہے جو گزشتہ برس سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے دیے گیے تھے۔ لیکن لوگ غبن کی رقم سے زیادہ اس بات پر حیران ہیں کہ گزشتہ برس اکتوبر میں امریکی رسالہ ’ٹائم‘ نے آئی ایس افسر گوتم گوسوامی کو ایشیا کی بیس ممتاز شخصیات میں شامل کیا تھا۔ ٹائم نے ’ ٹوئنٹی انڈر فورٹی‘ یعنی چالیس سال سے کم عمر کی بیس ممتاز شخصیات میں ان کے انتخاب کی بنیاد بہار میں سیلاب کے دوران انکی گراں قدر خدمات بتائی تھیں۔ ڈاکٹرگوسوامی کو گزشتہ سال بہار میں تباہ کن سیلاب کے دوران امدادی کاموں کے لیے نوڈل افسر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت پٹنہ کے کلکٹر بھی تھے۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ جن خدمات کے لیےان انکی ستائش کی گئی تھی اسی کام میں ان پر دس کروڑ کی رقم کا حساب نہ دینے کا الزام ہے۔ پٹنہ کے موجودہ کلکٹر سدھیر کمار کا کہنا ہے کہ سیلاب میں مدد کے لیے جو بھی لین دین ہوا اس کا حساب موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق ہر دن تقریباً ایک کروڑ روپے نکالے جاتے تھے۔ لیکن وہ کہاں گئے کسی کو پتہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر گوسوامی نے دلی میں ایک پریس کانفرنس میں اس الزام کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا اس کا علم انکے سینیئر افسران کو تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||