آسام سیلاب کی وجہ سے متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شمال مشرقی حصے میں واقع ریاست آسام سیلاب کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ حکام کے کہنا ہے کہ بھرما پترا دریا کی سطح اس وقت انتہائی بلندی پر پہنچ گئی ہے جس کے نتیجے میں دبروگڑھ کے مقامیوں اور آس پاس کے تقریباً ڈیڑھ ملین مقامیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ آسام کے دوسرے شمالی علاقوں میں بھی پانی کی سطح چھ فٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ دبروگڑھ ضلع آسام کا دوسرا بڑا علاقہ ہے جو چائے کی پیداور میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن یہ علاقہ آجکل شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ مقامیوں کا کہنا ہےکہ بھرم پترا مشرقی بھارت کا سب کے بڑا دریا ہے جس کی پانی کی سطح انتہائی بلندی پر پہنچ گئی ہے اور مسلسل اس کی بلندی میں اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی خطرے کی علامت ہے۔ حکام کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ اگر دریا کی بلندی میں اضافہ ہوتا رہا تو دریا کے احاطے میں بندھے ہوئے بندوں میں مزید سوراخ پیدا ہو جائے گا اور ڈیڑھ ملین مقامیوں کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ اس سے قبل انیس سو پچاس میں تبت میں آنے والے زلزلے کے سبب بھرم پترا دریا کا پانی کئی فٹ بلندی پر پہنچ گیا تھا۔ اس کے علاوہ آسام کی ضلع دھیماجی میں مچھکوا اور دکہوکانا کے علاقوں میں بند میں سوراخ پیدا ہو جانے کے باعث چھ فٹ کے قریب ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ آسام کے قریبی ضلع پسیگٹ میں بھی بندوں میں سوراخ ہو جانے کے سبب سیلاب خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دبروگڑھ کے قریبی علاقے میجن میں پیر کے روز ایک کشتی میں سوار چار افراد کے ڈوبنے کی اطلاع بھی ملی ہے۔ آسام میں اس سال دوسری دفعہ سیلاب کی وجہ سے تقریبا دس ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ سڑکوں اور ریلوے کا نظام بھی بری طرح درہم برہم ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ سو سے زائد افراد اس سیلاب کی وجہ سے لاپتہ ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||