BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 March, 2005, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سورین: جھارکھنڈ کے نئے وزیر اعليٰ

شیبو سورین
جے ایم ایم کے سربراہ شیبو سورین نے ریاست جھارکھنڈ کے نئے وزیر اعليٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔

اس دوران حزب اختلاف نے گورنر پر جانب داری کا الزام عائد کیا ہے اور بی جے پی نے گوا اور جھارکھنڈ کے گورنروں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ اس کے برخلاف حکمراں کانگریس نے گورنر کے رول کا دفاع کیا ہے۔

جھارکھنڈ کی حزب اختلاف پارلمان میں پورے دن گورنر اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے خلاف نعرے بازی کرتی رہی۔

اسپیکر کی تمام کوششوں کے باوجود ہنگامہ ختم نہیں ہوا۔ بعد میں بی جے پی کے قیادت میں این ڈی اے کے رہنماؤں نے صدرے جمہوریہ سے ملاقات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ گوا اور جھارکھنڈ کے گورنروں کو واپس بلایا جائے اور جھارکھنڈ کے گورنر کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔

بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جھارکھنڈ میں بی جے پی جنتادل (یو) اتحاد کو سب سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں اور اکثریت کے لیے اس نے آزاد امیدواروں کی فہرست بھی دی تھی۔ایسی صورت میں اصولی طور پر اسی کو حکومت سازی کے لیے بلانا چاہیے تھا۔

مسٹر اڈوانی نے کہا گورنر نے یو پی اے کی حکومت بنانے میں مدد کی ہے اور گورنر کے اس قدم سے آئین و جمہوریت کے اصولوں کی توہین ہوئی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اسکے بعض ارکان اسمبلی کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسری طرف حکمراں جماعت کانگریس نے گورنر کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ اسکا کہنا ہے آئينی طور پر گورنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جسے مناسب سمجھے حکومت بنانے کی دعوت دے۔ کانگریس کا کہنا ہے حزب اختلاف نے پارلمان میں جو رویہ اختیار کیا ہے دراصل وہ جمہوری قدروں کے خلاف ہے کیونکہ اس سے بجٹ جیسے اہم موضوع پر بحث نہیں ہو پارہی ہے۔

کچھ روز قبل گوا کے گورنر ایس سی جمیر اور اب جھار کھنڈ کےگورنر سید سبط رضی کے متنازعہ فیصلوں سے سیاسی اور میڈیا کے حلقوں میں یہ بحث پھر چھڑ گئی ہے کہ آخر معلق اسمبلی کی صورت میں گورنر کا رول کیا ہونا چاہیے۔ یہ مسئلہ ایک سیاسی تنازعہ کا سبب بن گیا ہے اور آئندہ کچھ روز تک پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس پر ہنگامہ جاری رہنے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد