سورین کوحکومت سازی کی پیشکش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جھار کھنڈ کے گورنر سیّد سبط رضی نے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سربراہ شیبو سورین کو نئی حکومت تشکیل کرنے کی دعوت دی ہے اور انہیں ریاست کا نیا وزیراعلٰي مقرر کیا گیا ہے۔ شیبو سورین کو اس ماہ کی اکیس تاریخ تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا گیا ہے۔ جھار کھنڈ میں گزشتہ دو روز سے این ڈی اے اور یو پی اے دونوں محاذ نئی حکومت بنانے کی کوشش میں تھے۔ دونوں ہی نےگورنر کے سامنے اپنا اپنا دعٰوی بھی پیش کیا تھا لیکن گورنر نے یوپی اے کو دعوت دی ہے اور آج ہی جے ایم ایم کےرہنما شیبو سورین عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ حالیہ انتخابات میں این ڈی اے محاذ کو سب سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں اور حکومت سازی کے لیے اسے محض پانچ دیگر ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی۔ پارٹی نے گورنر کو آزاد امیدواروں کی ایک فہرست بھی پیش کی تھی۔ دوسری طرف جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے اکیاسی رکنی اسبلی میں سے بیالیس ارکان کی حمایت کا دعوٰی کیا تھا۔ گورنر کے اس فیصلے کے خلاف ریاست میں کئی جگہوں سے توڑ پھوڑ کی خبریں ملی ہیں۔ بی جے پی اور اس کی حامی جماعتوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ گزشتہ رات دونوں گروپوں کے درمیان گورنر ہاؤس کے سامنے ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی جس کے سبب گورنر ہاؤس کے سامنے نیم فوجی دستے تعنیات کیے گئے تھے۔ ادھر اسی معاملے پر پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی ہے۔ بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے محاذ نے جھار کھنڈ کے گورنر کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور کارروائی نہیں چلنے دی۔ کئی بار سپیکر نے لوک سبھا اجلاس ملتوی کیا لیکن جوں ہی اجلاس دوبارہ شروع ہوتا بی جے پی حامی ارکان شور مچانے لگتے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جھارکھنڈ کے گورنر سید سبط رضی نے حکمراں یو پی اے کے حق میں جانبدار رویہ اختیار کیا ہے۔ اور خدشہ ہے کہ آئندہ چند روز تک اس مسئلے پر ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||